1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فیصلے کا وقت آن پہنچا: سپریم کورٹ کے ارد گرد حفاظتی حصار

پاکستان اور خاص طور پر اسلام آباد کی سکیورٹی سخت تر کر دی گئی ہے۔ کسی ممکنہ حملے یا پھر کسی گروپ کی جانب سے غیر متوقع احتجاج سے نمٹنے کے لیے ہائی کورٹ کے اردگرد پندرہ سو پولیس کمانڈوز تعینات ہیں۔

پاکستان بھر کے لوگوں کی نظریں آج کے سپریم کورٹ کے فیصلے پر لگی ہوئی ہیں جبکہ کسی بھی ممکنہ حملے یا ہنگامے سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی الرٹ رکھی گئی ہے۔ دارالحکومت اسلام آباد کے داخلی راستوں پر بھی سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دارالحکومت کی طرف جانے والی اہم شاہراہوں پر لاٹھی بردار پولیس اہلکار بھی کھڑے نظر آ رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق پانامہ لیکس کے حوالے سے سامنے آنے والے اس عدالتی فیصلے کی وجہ سے ملکی وزیراعظم نواز شریف کو اقتدار سے بے دخل بھی ہونا پر سکتا ہے۔

یہ کیس گزشتہ ایک سال سے پاکستانی میڈیا کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے اور آج بھی پاکستان کا پورا میڈیا اسی کیس کو موضوع بنائے ہوئے ہے۔ بہت سے مقامی تجزیہ کاروں کے مطابق لازمی نہیں کہ فیصلہ ویسا ہی آئے، جیسا اپوزیشن توقع کر رہی ہے۔

اگر وزیراعظم کو اپنا عہدہ چھوڑنے کے لیے کہا جاتا ہے تو مسلم لیگ نون اپنی ہی پارٹی کے اندر سے ایک نیا وزیراعظم سامنے لا سکتی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ حکومت پر نئے انتخابات کروانے کے لیے بھی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔