1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فیصلہ پاکستانی عوام کے ہاتھ میں ہے، جان کیری

ایبٹ آباد واقعہ کے بعد امریکہ میں پاکستان کو دی جانے والی اقتصادی امداد کے بارے میں بہت سے سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ فیصلہ پاکستانی عوام کو کرنا ہے کہ دہشت گردوں کا ساتھ دینا ہے یا ایک پائیدار جمہوریت بننا ہے، جان کیری

default

پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے امریکی سینیٹ کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ سینیٹر جان کیری کا کہنا ہے کہ پیر کے روز اسلام آباد میں پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت سے مشترکہ ملاقات کے بعد مقامی ذرائع ابلاغ کے لیے جاری کئے گئے اپنے ایک وڈیو بیان میں سینیٹر کیری کا کہنا تھا کہ انہوں نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی، بری فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور ڈی جی آئی ایس آئی جنرل احمد شجاع پاشا سے ایوان صدر میں ملاقات کی ہے۔ سینیٹر کیری کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکہ اسٹریٹجک پارٹنر ہیں۔’’ دہشت گردی اور انتہا پسندی ہمارے مشترکہ دشمن ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دونوں ممالک کے ہزاروں شہریوں اور فوجیوں نے قربانیاں دی ہیں اس لیے یہ مناسب نہ ہو گا کہ دونوں ممالک کے تعلقات خراب ہوں۔ انہوں نے کہا کہ ’’ میں نے ممکنہ حد تک اس تشویش کا اظہار کیا ہے جو اسامہ بن لادن کی پاکستان میں موجودگی اور افغانستان میں ہمارے دشمنوں کے یہاں پر قائم ٹھکانوں کے بارے میں امریکہ میں پائی جاتی ہے۔''

Pakistan Treffen john Kerry und Yousaf Raza

جان کیری نے پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت سے مشترکہ ملاقات کی

سینیٹر کیری کا کہنا تھا کہ اب یہ فیصلہ پاکستانی عوام کو کرنا ہے کہ ان کا ملک انتہا پسندوں کی جنت بنے گا یا ایک ایسی جمہوریت، جس کا خواب اس کے بانی محمد علی جناح نے دیکھا تھا۔ ان کے بقول انہوں نے جنرل کیانی اور پاشا پر واضح کر دیا ہے کہ امریکی ان کے جذبات کو سمجھتے اور یہ بھی جانتے ہیں کہ پاکستانی قیادت اپنے ملک کی خودمختاری کے لیے سنجیدہ ہے۔ تاہم سینیٹر کیری کے بقول ان غیر معمولی حالات کو سمجھنا بھی ضروری ہے جو اسامہ بن لادن کے خلاف آپریشن کا سبب بنے۔ انہوں نے کہا کہ اسامہ بن لادن 3 ہزار معصوم امریکی شہریوں اور 35 ہزار سے زائد پاکستانیوں کا قاتل تھا۔ اسامہ اور اس کے ساتھی کافی عرصے سے پاکستانی خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔

سینیٹر کیری نے کہا کہ سال 2002ء کے اواخر میں اسامہ بن لادن کے خلاف تورا بورا میں امریکی فوج نے آپریشن نہیں کیا اور وہ پاکستان بھاگ آیا، جہاں سے امریکہ پر مزید حملوں کی منصوبہ بندی کرتا رہا۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی امریکی دوسری بار یہ رسک نہیں لے سکتا تھا کہ اسامہ ہماری گرفت سے نکل جائے۔ اسی وجہ سے ایبٹ آباد آپریشن کے بارے میں امریکی انتظامیہ کے صرف چند انتہائی اعلیٰ اہلکاروں کو معلوم تھا۔ سینیٹر کیری کے مطابق یہاں تک کے امریکی سینٹرل کمانڈ کے سربراہ ڈیوڈ پیٹریاس اور خود سینیٹر کو بھی آخری دنوں تک اس آپریشن سے بے خبر رکھا گیا۔ سینیٹر کیری نے کہا کہ وہ معافی مانگنے پاکستان نہیں آئے بلکہ اس بات کے لیے آئے ہیں کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو کس طرح قائم رکھتے ہوئے اعتماد بحال کیا جائے۔

John Kerry vor der zweiten Fernsehdebatte mit George Bush

پاکستان کی امداد جاری رکھی جائے گی، کیری

سینیٹر کیری نے مزید کہا کہ انہیں خوشی ہے کہ پاکستانی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں تعلقات کی بحالی کے لیے اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ ہم نے متعدد ایسے اقدامات پر اتفاق کیا ہے، جو فوراً نافذ کئے جائیں گے تا کہ دونوں ممالک کا تعلق بحال ہو جائے اور ہم سب کو اس تعلق کے بارے میں حقیقت پسندانہ سوچنا ہو گا‘‘۔ انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں دو امریکی سینئر اہلکار پاکستان کا دورہ کریں گے اور اس کے بعد امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن بھی پاکستان آئیں گی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ پاکستان کی امداد جاری رکھے گا۔ دوسری جانب تجزیہ نگار ظفر ہلالی کا کہنا ہے کہ امریکی اور پاکستانی قیادت کی تمام تر کوششوں کے باوجود دونوں ممالک کے تعلقات کو 2 مئی سے پہلے کی سطح پر لانے میں خاصا وقت درکار ہو گا۔

رپورٹ: شکور رحیم

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM