1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

وجود زن

فیشن شو: ریمپ سے طاقت اور دلیری کا پیغام

فیش شوز میں عموماﹰ خوبصورت چہرے اور دیدہ زیب ملبوسات ہی نظر آتے ہیں لیکن اس مرتبہ کے ’نیو یارک فیشن شو‘ کی زینت ریشماں قریشی کا تیزاب سے جھلسا ہوا چہرہ بھی تھا۔

Reshma Querishi Model Laufsteg New York Fashion Week

ریشماں نے ایک خوبصورت لباس پہنا ہوا تھا جس پر لال، ہرے، اور سبز رنگ سے کڑھائی کی گئی تھی

نیویارک فیشن شو میں بھارتی ڈیزائنر ارچنا کوچھار نے اپنے ڈیزائن کیے گئے ملبوسات ایک خاص سماجی پیغام کے ساتھ فیشن شو کے حاضرین کے سامنے پیش کیے۔ اس ڈیزائنر کی پہلی ماڈل ریشماں قریشی تھی۔ بھارت میں سن 2014 میں سترہ سالہ ریشماں اپنی بہن کے ہمراہ سٹرک پر چل رہی تھی جب کچھ حملہ آوروں نے اس کے چہرے پر تیزاب پھنک دیا۔ اس حملے میں اس کی ایک آنکھ ضائع ہو گئی تھی۔ گزشتہ شب دنیا کے معتبر ترین فیشن شو میں بطور ماڈل ریمپ پر واک کرنا ریشماں کے لیے کسی اعزاز سے کم نہ تھا۔

Reshma Querishi Model Laufsteg New York Fashion Week

ایک فیشن شو میں جھلسے ہوئے چہرے کی ماڈل یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ ظاہری خوبصورتی سب کچھ نہیں، ریشماں

ریشماں نے نیوز ایجنسی اے پی کو بتایا،’’میرے لیے یہ موقع انتہائی اہم ہے کیوں کہ میری طرح کی بہت سی اور بھی متاثرہ لڑکیاں ہیں اور میری یہاں موجودگی انہیں بھی حوصلہ فراہم کرے گی،‘‘ریشماں نے یہ بھی کہا کہ ایک فیشن شو میں جھلسے ہوئے چہرے کی ماڈل یہ پیغام بھی دیتی ہے کہ ظاہری خوبصورتی سب کچھ نہیں ہر انسان کو ایک ہی نظر سے دیکھا جانا چاہیے۔‘‘

Reshma Qureshi Säureopfer Säure Anschlag Mumbai

سن 2014 میں حملہ آوروں نے ریشماں کے چہرے پر تیزاب پھنک دیا تھا

ریشماں نے ایک خوبصورت لباس پہنا ہوا تھا جس پر لال، ہرے، اور سبز رنگ سے کڑھائی کی گئی تھی۔ اس نوجوان ماڈل نے اس موقع پر کہا،’’ میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ میں اتنے بڑے فیشن شو میں بطور ماڈل شرکت کروں گی۔‘‘

Reshma Querishi Model Laufsteg New York Fashion Week

ریشماں کا یہاں تک پہنچنا بہت بڑی کامیابی ہے، سنی لیون

اس فیشن شو میں بھارتی اداکارہ سنی لیون نے بھی ریمپ پر واک کی۔ سنی لیون نے ریشماں کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے کہا،’’یہ انتہائی حیران کن ہے کہ ایک لمحے میں کیسے کسی کی زندگی بدل جاتی ہے، ریشماں کا یہاں تک پہنچنا بہت بڑی کامیابی ہے۔‘‘

DW.COM