1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

فیس بک کے مقابلے میں اب گوگل پلس

مشہور انٹرنیٹ کمپنی گوگل نے سوشل نیٹ ورکنگ کے شعبے میں فیس بک کا مقابلہ کرنے کے لیے گوگل پلس کو عام صارفین کے لیے معتارف کرا دیا ہے۔

default

آن لائن صارفین کے لیے گوگل کی نت نئی مصنوعات کی لمبی فہرست میں یہ تازہ اضافہ منگل کے روز کیا گیا۔ گوگل کو توقع ہے کہ گوگل پلس مستقبل میں فیس بک کا سب سے بڑا حریف پروگرام ثابت ہو گا۔ یہ سوشل نیٹ ورکنگ پلیٹ فارم اپنے اجرا سے پہلے تین مہینے تک صارفین کی ایک محدود تعداد کے زیر استعمال رہا۔ اس دوران اس پروگرام کی کامیابی کو مد نظر رکھتے ہوئے گوگل نے فیصلہ کیا صارفین کی محدود تعداد کی بجائے اب اسے انٹرنیٹ پر دنیا بھر کے صارفین کو پیش کر دینا چاہئے۔

امریکی ریاست کیلی فورنیا میں سان فرانسسکو سے ملنے والی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ گوگل پلس کو انٹرنیٹ پر لانچ کرنے کا اعلان اس کمپنی کے انجینئرنگ کے شعبے کے نائب صدر Vic Gundotra نے کیا۔ انہوں نے انٹرنیٹ پر اپنے ایک بلاگ میں منگل کے روز لکھا کہ گوگل نے بارہ ہفتوں تک گوگل پلس کا تجرباتی استعمال کیا۔ اس دوران بہت سی نئی باتیں سامنے آئیں اور گوگل کو بہت کچھ سیکھنے کا موقع بھی ملا۔

Goolge Plus vs. Facebook Symbolbild NO FLASH

وِک گنڈوٹرا نے اپنے بلاگ میں کہا کہ ابھی گوگل کا یہ پروجیکٹ اپنی تکمیل سے بہت دور ہے۔ لیکن کمپنی نے اب تک اس پروگرام میں جتنی بھی مثبت تبدیلیاں کی ہیں، ان کی روشنی میں گوگل پلس اب فیلڈ ٹرائل سے بیٹا ٹرائل میں جانے کے لیے تیار ہے۔ گوگل کمپنی کی طرف سے اب گوگل پلس کو سائن اپ کے لیے کھولا جا چکا ہے۔

اب کوئی بھی انٹرنیٹ صارف گوگل کی ویب سائٹ پر جا کر وہاں خود کو گوگل پلس کے لیے رجسٹر کروا سکتا ہے۔ اس طرح اب دنیا میں انٹرنیٹ استعمال کرنے والا کوئی بھی انسان گوگل کی اسی طرح کی سروسز سے فائدہ اٹھا سکتا ہے، جیسی فیس بک کی طرف سے مہیا کی جاتی ہیں۔ گوگل پلس کا ایڈریس ہے:   google.com/+

گوگل کا یوں تو اپنا بھی ایک چیٹنگ سافٹ ویئر ہے لیکن سوشل نیٹ ورکنگ کے شعبے میں فیس بک نے گوگل کو بہت پیچھے چھوڑ دیا تھا۔ اس کی وجہ فیس بک کے صارفین کی وہ تعداد ہے جو خود فیس بک کے اعلیٰ عہدیداروں کے مطابق پوری دنیا میں اس وقت 750 ملین بنتی ہے۔

فیس بک اس وقت دنیا کی سب سے زیادہ آن لائن ٹریفک والی ویب سائٹ ہے۔ دوسری طرف گوگل وہ کمپنی ہے، جس کو آن لائن اشتہارات کے شعبے میں دنیا بھر میں سب سے زیادہ آمدنی ہوتی ہے۔ لیکن فیس بک کی حیران کن کاروباری کامیابی کی وجہ سے گوگل کو یہ خطرہ پیدا ہو چکا تھا کہ جلد ہی فیس بک اشتہارات کے شعبے میں گوگل کو اس کی پہلی پوزیشن سے محروم کر سکتی ہے۔ اس پس منظر میں گوگل کے اعلیٰ عہدیداروں کو اب امید ہے کہ گوگل پلس کی مدد سے وہ فیس بک اور اپنی کمپنی کے درمیان پایا جانے والا کاروباری فاصلہ کافی حد تک کم کر سکیں گے۔

گوگل کے ان پر جوش کاروباری ارادوں کا ثبوت یہ ہے کہ اب گوگل نے اپنی ویب سائٹ پر گوگل پلس کا ایک بڑا سائن ان لنک بھی پوسٹ کر دیا ہے حالانکہ ماضی میں گوگل سرچ انجن پر اس طرح کا کوئی لنک نظر نہیں آتا تھا۔

Goolge Plus vs. Facebook Symbolbild NO FLASH

گوگل پلس کی پہلے تین ماہ کی تجرباتی مدت کے دوران اس کمپنی کو بہت اچھا رد عمل دیکھنے کو ملا۔ شروع میں اس سروس کا استعمال صرف ان صارفین کے لیے کھلا تھا، جنہیں اس کی باقاعدہ دعوت دی گئی تھی۔ بعد میں ان صارفین کو یہ اجازت بھی دے دی گئی کہ وہ اپنے دوستوں کو بھی گوگل پلس کے استعمال کی دعوت دے سکتے تھے۔

گوگل نے اس عرصے کے دوران گوگل پلس میں ایسی خاصیتیں اور امکانات بھی متعارف کرا دیے، جو ابھی تک فیس بک میں بھی نہیں تھے۔ اس پر فیس بک نے بھی اپنی سروس کو جدید بنانے کو عمل تیز تر کر دیا اور تب سے اب تک فیس بک صارفین بھی فیس بک پر کئی نئی تبدیلیاں نوٹ کر چکے ہیں۔

گوگل پلس کی ایک خاص بات وہ نئی ویڈیو چیٹ ہے، جس کو Hangout video chat کا نام دیا گیا ہے، اور جس کے ذریعے کوئی بھی ممبر بیک وقت متعدد افراد کے ساتھ ویڈیو چیٹ کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ گوگل پلس میں بہت سی ایسی نئی باتیں بھی ہیں، جو اب تک کسی دوسری سوشل نیٹ ورکنگ سروس میں نہیں ہیں۔

Mashable نامی سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹ کے مطابق گوگل پلس کے اراکین کی تعداد شروع میں اس کے تجرباتی عرصے کے دوران ہی 25 ملین سے تجاوز کر گئی تھی۔

رپورٹ : عصمت جبیں

ادارت: امتیاز احمد     

DW.COM

ویب لنکس