1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فیس بک کے ’لائک‘ بٹن کو عدالت نے ’ڈس لائک‘ کر دیا

ایک جرمن عدالت نے مختلف کاروباری ویب سائٹس پر فیس بک کے ’لائک‘ بٹن کی موجودگی کو جرمنی میں تحفظ صارفین کے قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ فیس بک کو اس سلسلے میں صارفین کو مکمل طور پر آگاہ کرنا ہو گا۔

جرمن شہر ڈسلڈورف کی ایک عدالت کے مطابق ملبوسات کے ایک بڑے کاروباری ادارے ’پیک اینڈ کلوپن برگ‘ کی ویب سائٹ پر فیس بک کے لائک بٹن کی موجودگی جرمنی میں صارفین کے نجی کوائف کے تحفظ سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ دوسری جانب ’پیک اینڈ کلوپن برگ‘ کو تنبیہ کر دی گئی ہے کہ اگر اس نے یہ فیس بک ’لائک‘ آپشن اپنی ویب سائٹ سے نہ ہٹایا تو اسے ہر خلاف ورزی پر ڈھائی لاکھ یورو تک کا جرمانہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ عدالت نے حکم دیا ہے کہ ملبوسات کی یہ کمپنی اپنے صارفین کو یہ بتائے کہ اگر وہ اس کمپنی کے فیس بک پیج کو ’لائک‘ کریں گے تو ’پیک اینڈ کلوپن برگ‘ کو ان کا آئی پی ایڈریس بتا دیا جائے گا۔

جرمن صوبے نارتھ رائن ویسٹ فیلیا میں صارفین کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے نے اس سلسلے میں عدالت میں درخواست جمع کرائی تھی۔ صارفین کے تحفظ کے اس ادارے نے عدالتی فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا ہے، ’’ فیس بک کی جانب سے کسی بھی صارف کی نجی معلومات اُس کی مرضی کے بغیر استعمال کرنے کا سلسلہ اب بند ہو جائے گا۔‘‘

اس سلسلے میں عدالت میں دائر کردہ درخواست میں کہا گیا تھا کہ متعدد ای کامرس ویب سائٹس فیس بک سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار صارفین کو بتائے بغیر استعمال کرتی ہیں۔ اس ادارے کا مزید کہنا ہے کہ فیس بک کے لائک بٹن کے ذریعے ایسے سافٹ ویئر لوگوں کے کمپیوٹرز پر ڈاؤن لوڈ ہو جاتے ہیں، جوصارفین کی دلچپسیوں کے بارے میں ایک رپورٹ مرتب کرتے ہیں۔ اس کے لیے ضروری نہیں ہے کہ لائک کا بٹن دبانے والے صارف کا اس سماجی ویب سائٹ پر کوئی اکاؤنٹ ہے یا نہیں۔