1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فیس بک پر فرقہ ورانہ پوسٹ، پاکستانی شہری کو تیرہ برس قید

پاکستان کی ایک عدالت نے پچیس سالہ نوجوان رضوان حیدر کو اپنے فیس بک پیج پر فرقہ ورانہ پوسٹ شائع کرنے کے جرم میں تیرہ برس قید اور ڈھائی لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ہے۔ عقیدے کے لحاظ سے یہ نوجوان ایک شیعہ مسلمان ہے۔

پاکستان نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت ملک بھر میں کارروائیوں کا آغاز کر رکھا ہے جبکہ فرقہ ورانہ تقریریں کرنے اور منافرت پر مبنی مواد شائع کرنے کے الزام میں اب تک ہزاروں مذہبی شخصیات گرفتار جبکہ سینکڑوں دکانیں بند کی جا چکی ہیں۔ آج پاکستان کی ایک عدالت نے ایک ایسے ملزم کو سزا سنائی، جس نے نفرت انگیز مواد اپنی فیس بک وال پر شائع کیا تھا۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے پچیس سالہ رضوان حیدر کو تین مختلف الزامات میں سزا سنائی، جن میں فرقہ ورانہ نفرت کو فروغ دینے کا الزام بھی شامل ہے۔ بتایا گیا ہے کہ رضوان حیدر کی طرف سے فیس بک پر شائع کیا گیا مواد پیغمبر اسلام سے متعلق تھا۔

سرکاری وکیل عدیل چٹھہ کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’حیدر کے خلاف یہ کیس درج کروایا گیا تھا۔ اس کا تعلق شیعہ مسلم فرقے سے ہے۔ جنوری میں مجرم نے قابل اعتراض مواد پر مبنی ایک ایسی پوسٹ شائع کی تھی، جو سنی مسلمانوں کے عقیدے کے خلاف تھی۔‘‘ عدیل چٹھہ کے مطابق مجرم کو دو لاکھ پچاس ہزار روپے جرمانہ بھی کیا گیا ہے۔

رضوان حیدر نے اپنے خلاف لگائے گئے الزامات کی صحت سے انکار کر دیا تھا اور وہ اس عدالتی فیصلے کے خلاف اپیل کا حق رکھتے ہیں۔ رضوان حیدر کے وکیل شمیم زیدی کا ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’اس نے صرف پوسٹ کو ’لائک‘ کیا تھا۔ اس نے مواد اپنے پیج پر شائع نہیں کیا تھا۔‘‘

پاکستانی حکومت نے ملک میں دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد شروع کر رکھا ہے۔ حالیہ چند مہینوں کے دوران حکومت سینکڑوں شدت پسندوں کو گرفتار کر چکی ہے اور ان میں سے زیادہ تر تعداد سنی مسلمانوں کی ہے۔ حیدر کا تعلق ان چند شیعہ ملزمان سے ہے، جنہیں اب تک گرفتار کیا گیا ہے۔

نومبر دو ہزار پندرہ میں بھی پاکستان میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے ایک شیعہ شہری کو فیس بک پر نفرت انگیز مواد شائع کرنے پر تیرہ برس قید کی سزا سنائی تھی۔

انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق ایسے عدالتی فیصلے ’پریشان کن‘ ہیں۔