1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فیس بک نہیں ، ملت فیس بک

سوشل نیٹ ورک ویب سائٹ فیس بک پرپیغمبراسلام کے متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے بعد پاکستان میں کچھ آئی ٹی ماہرین نے ’ملت فیس بک‘ کے نام سے ایک نئی ویب سائٹ تخلیق کی ہے۔

default

اس ویب سائٹ کا مقصد یہ بتایاگیا ہے کہ دنیا بھر میں بسنے والے ایک اعشاریہ چھ مسلمان اس ویب سائٹ کی مدد سے ایک دوسرے سے رابطہ کر سکیں۔ millatfacebook.com نامی اس ویب سائٹ کے خالق لاہور شہر سے تعلق رکھتے ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی آئی ٹی کے ماہران چھ نوجوانوں کا کہنا ہے کہ ان کی خواہش ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان اس نئی ویب سائٹ کے ذریعے ایک دوسرے سےاپنے رابطے بحال کریں۔

لانچ کی گئی اس نئی ویب سائٹ پرمنگل کے دن ان نوجوانوں نے، فیس بک پر پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی اشاعت پراحتجاج بھی کیا۔

اس سے قبل پاکستان کی ایک عدالت نے فیس بک پر پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کی اشاعت کے بعد اس ویب سائٹ پر اکتیس مئی تک پابندی عائد کر دی تھی۔ اس پابندی کے بعد ملت فیس بک کو لانچ کیا گیا۔ اس ویب سائٹ کوفیس بک کے فیچرز کو ملحوظ رکھ کر بنایا گیا ہے اور دیکھنے میں یہ فیس بک ہی لگتی ہے تاہم اس کا ایڈریس مختلف ہے۔

Pakistan Facebook

فیس بک پر پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کے حوالے سے ایک مقابلہ شروع کرنے پر پاکستان میں شدید مطاہرے کئے گئے

ملت فیس بک ویب سائٹ کے منتظمین نے دعویٰ کیا ہے کہ تین دنوں کے دوران کوئی چار ہزارتین سو صارفین نے اپنا اکاؤنٹ بنایا ہے۔پاکستان میں کوئی دو اعشاریہ پانچ ملین افراد فیس بک استعمال کرتے ہیں، تاہم حال ہی میں پیغمبر اسلام کے متنازعہ خاکوں کے حوالے سے ایک مقابلے کے اعلان کے بعد پاکستان میں اس ویب سائٹ پر پابندی سے بعد پاکستانی صارفین کی تعداد واضح طور پر کم ہوئی ہے۔

پاکستان میں ایک سوفٹ وئیر ہاؤس کے مالک اور ملت فیس بک کے منتظم چوبیس سالہ عثمان ظہیر نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ اگر فیس بک متنازعہ موضوعات کی پشت پناہی کرے گی تووہ بزنس میں ان کے حریف بن جائیں گے اور انہیں شدید مالی نقصان پہنچائیں گے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات