1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فیری حادثے کی دوسری برسی، ہزاروں افراد کی شرکت

جنوبی کوریا میں ایک فیری ڈوبنے کے حادثے کی آج ہفتے کے روز دوسری برسی منائی جا رہی ہے۔ اس حادثے کے نتیجے میں تین سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے اور یہ ملک میں شدید بے چینی کا باعث بنا تھا۔

جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیؤل کے ایک مرکزی اسکوائر میں ہزاروں افراد ہلکی بارش میں چھتریاں سروں پر تانے جمع ہوئے اور طویل قطاروں میں لگ کر اُس مقام پر پھول رکھے جہاں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں نے کئی ماہ تک بطور احتجاج کیمپ لگائے رکھا۔

سیؤل پولیس توقع کر رہی تھی کہ اس موقع پر قریب پانچ ہزار افراد جمع ہوں گے جس کے لیے تقاریر، کنسرٹ اور ایک فلم کی اسکریننگ ترتیب دی گئی تھی تاہم اس بات کا خدشہ بھی ذہن میں رکھا گیا تھا کہ لوگوں کا یہ اجتماع حکومت مخالف مارچ میں بھی بدل سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق تاہم یہ ایونٹ پر امن طریقے سے جاری تھا۔

اس تقریب سے کئی گھنٹے قبل قریب ڈھائی ہزار افراد، جن میں ہلاک ہونے والوں کے رشتہ داروں کے علاوہ حکومتی اہلکار بھی شامل تھے، آنسان نامی علاقے میں منعقدہ ایک تقریب میں شریک ہوئے۔ فیری حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی زیادہ تر تعداد اسی علاقے میں رہتی تھی۔ اس کے علاوہ ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی حادثے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے یادگاری تقریبات منعقد کی گئیں۔ ان میں حادثے کے مقام کے قریب ایک چھوٹے جزیرے پر موجود پورٹ بھی شامل ہے۔ اسی جگہ پر لوگوں نے کئی ماہ تک انتظار کیا تھا کہ ہلاک ہونے والوں کو نکالنے والے غوطہ خور کب ان کے پیاروں کی لاشیں نکال لاتے ہیں۔

دو برس قبل 16 اپریل 2014ء کو سیوول نامی بحری جہاز کے ڈوبنے کے نتیجے میں کُل 304 افراد ہلاک ہوئے تھے، ان میں سے زیادہ تر آنسان کے ایک ہی ہائی اسکول کے طلبہ و طالبات تھے۔ اس حادثے کی ذمہ داری کسی حد تک حکام کی غفلت اور بدعنوانی پر بھی عائد کی گئی۔

فیری کے کپتان کو اس حادثے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی

فیری کے کپتان کو اس حادثے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسے عمر قید کی سزا سنائی گئی تھی

غوطہ خوروں نے تباہ ہونے والے اس بحری جہاز کے ملبے اور قریبی سمندر سے سات ماہ تک جاری رہنے والے تلاش کے آپریشن میں 295 لاشوں کو نکالنے میں کامیابی حاصل کی تھی۔ جس کے بعد حکومت کی طرف سے تلاش کا یہ سلسلہ ختم کر دیا گیا۔ نو افراد کی لاشیں تلاش نہ کی جا سکیں۔

اس حادثے کے باعث ایک طرف تو پورا ملک غم و اندوہ میں ڈوب گیا تو دوسری طرف عوامی حفاظت کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر سوالات اٹھائے گئے۔ ہلاک ہونے والوں کے ورثا اس بات پر نالاں تھے کہ اس کی ذمہ داری اعلیٰ حکومتی عہدیداروں پر عائد نہیں کی گئی تھی اور وہ یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ اس حادثے کے پیچھے حکومتی ذمہ داری کے حوالے سے تفصیلی تحقیقات کی جائیں۔

جنوبی کوریا کی اعلیٰ ترین عدالت نے گزشتہ برس نومبر میں اس فیری کے کپتان کو اس حادثے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے اسے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔ عدالت کے مطابق کپتان ’جانتے بوجھتے غفلت‘ کا مرتکب ہوا تھا اور وہ جہاز کو خالی کرنے کے احکامات دیے بغیر ہی وہاں سے نکل گیا تھا۔