1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فیدل کاسترو کا پارلیمنٹ سے خطاب

کیوبا کے انقلابی لیڈر فیدل کاسترہ اگلے جمعہ کو چوراسی برس کے ہو رہے ہیں۔ وہ ان دنوں خاصے علیل بھی ہیں۔ علالت کے باوجود گزشتہ روز انہوں نے مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے حوالے سے ملکی پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔

default

فیدل کاسترو: فائل فوٹو

چار سال بعد پہلی مرتبہ کیوبا کے لیڈر فیدل کاسترو نے اپنے ملک کی پارلیمنٹ سے خطاب کیا۔ پارلیمنٹ کے خصوصی اجلاس کا اہتمام کیوبا کے دارالحکومت ہوانا میں کیا گیا۔ وہ سن 2006 ء سے صاحب فراش ہیں۔گزشتہ دنوں انہوں نے اپنی یاداشتوں کے پہلے مجموعے کی تقریب رونمائی میں بھی شرکت کی تھی۔ اس کے علاوہ انہوں نے حال ہی میں چین کے وزیر خارجہ سے بھی خصوصی ملاقات کی۔

کاسترو کے اس خطاب کو کیوبا کے سرکاری ٹیلی وژن نے براہ راست نشر کیا۔ پارلیمنٹ میں چھ سو ممبران موجود تھے۔ جب کاسترو ایوان پارلیمان میں داخل ہوئے تو ان کا شاندار خیر مقدم کیا گیا اور دیر تک اراکین تالیاں بجاتے رہے۔ فیدل کاسترو بدستور رکن پارلیمنٹ ہیں لیکن وہ سن 2006 ء کے وسط سے اس کے باقاعدہ اجلاسوں میں شریک نہیں ہو رہے۔ وہ کمیونسٹ پارٹی کے فرسٹ سیکریٹری بھی ہیں۔

No Flash Fidel Castro

چھبیس جولائی کو کھینچی گئی فیدل کاسترو کی ایک تازہ تصویر

پارلیمنٹ کی عمارت کے اندر کاسترو کے ساتھ ان کے بھائی اور موجودہ صدر راؤل کاسترو بھی تھے۔ لیجنڈری لیڈر نے اراکین سے مختلف موضوعات پر ڈیڑھ گھنٹے تک مکالمت جاری رکھی۔ کاسترو کافی عرصے کے بعد گزشتہ ماہ کی سات تاریخ سے پبلک فنکشنز یا اجلاسوں میں دیکھے جا رہے ہیں۔کیوبا کی پارلیمنٹ کا خصوصی اجلاس کاسترو کی خواہش پر طلب کیا گیا تھا۔ کاسترو کو اندیشہ کے مشرق وسطیٰ کا بحران، انجام کار کہیں جوہری جنگ پر ختم نہ ہو۔ اسی اندیشے کی بنیاد پر اجلاس کا اہتمام کیا گیا، وگرنہ کیوبا کے دستور کے مطابق یک ایوانی پارلیمنٹ کا اجلاس صرف سال میں دو بار بلایا جاتا ہے۔

اس تقریر میں کاسترو نے دیگر موضوعات کے ساتھ جوہری جنگ کے خطرے کو خاص طور پر اپنی تقریر میں سمویا۔ مشرق وسطیٰ کے تنا زعے کے حوالے سے انہوں نے جوہری جنگ کا خطرہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ

Flash-Galerie Kuba Politische Gefangene Dissidenten Umbruch Fidel Castro

بارہ جولائی کو لی گئی فیدل کاسترو کی تصویر

زمین پر جو حاکمیت کی کشمکش جاری ہے، اس کا انسانوں کے پاس کوئی حل موجود نہیں ہے اور یہ کشمکش اس عصری نظام کا حصہ ہے، جس نے جلد یا بدیر منہدم ہو جانا ہے۔ کاسترو کے مطابق موجودہ عالمی آرڈر کا اختتام ناگزیر ہو چکا ہے۔

اپنی تقریر میں کاسترو کا کہنا تھا کہ اس جنگ سے بچا جا سکتا ہے اور یہ امریکی صدر اوباما کے ہاتھ میں ہے۔ کاسترو کے مطابق ابھی تک اوباما کی بے پناہ مصروفیت کی بنا پر اس صورت حال کا ادراک نہیں ہوا ہے لیکن ان کے معاونین ان کو معلومات فراہم کر رہے ہیں۔ کاسترو کا کہنا تھا کہ اوباما سابق صدر نکسن کی طرح ترش رو یا Cynic نہیں ہیں۔ کاسترو کا یہ بھی کہنا تھا کہ خوش قسمتی ہے کہ امریکہ کا صدر افریقی نژاد اور مسلمان اور مسیحی خاندان سے ہے۔ کاسترو نے کیوبا کی پارلیمنٹ کا سیشن امریکی صدر کو موجودہ صورت حال سے آگہی کے لئے طلب کیا تھا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس