1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فیدل کاسترو پچاسی برس کے ہو گئے

کیوبا کے ’کمیونسٹ انقلاب‘ کے معمار فیدل کاسترو آج ہفتے کے روز پچاسی برس کے ہو گئے ہیں۔

default

کیوبا تاریخ کے ایک اہم موڑ پر کھڑا ہے۔ قریباً پچاس برس تک بلا شرکت غیر کیوبا کے معاملات اپنی گرفت میں رکھنے والے، کیوبا کے انقلاب کے معمار اور رہنما فیدل کاسترو اب تقریباً عملی سیاست سے کنارہ کش ہو چکے ہیں۔ انہوں نے سن دو ہزار چھ میں اقتدار اپنے کزن راؤل کاسترو کے حوالے کر دیا تھا۔ آج جب فیدل کاسترو اپنی پچاسیویں سالگرہ منا رہے ہیں، کیوبا ایک ایسی نہج پہ ہے، جہاں معاشی اور سیاسی اصلاحات اس کے لیے ناگزیر ہوتی جا رہی ہیں۔ راؤل کاسترو ان اصلاحات کا وقتاً فوقتاً ذکر کرتے رہتے ہیں تاہم ابھی بہت کچھ ہے جو ہونا باقی ہے۔

NO FLASH Kuba Chavez und Castro

راؤل کاسترو، اوگو شاویز اور فیدل کاسترو

کاسترو کی سالگرہ کی تقریبات منگل سے ہی شروع ہو گئی تھیں۔ سرکاری طور پر فیدل کاسترہ کی سالگرہ کے موقع پر مختلف تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے، جن میں موسیقی کے پروگرامز، نمائشیں اور رقص کی محفلیں شامل ہیں۔ ہفتے کے روز کیوبا کے سب سے بڑے تھیٹر ’کارل مارکس تھیٹر‘ میں تقریب منعقد کی جا رہی ہے، جس میں ’سانگ آف لائلٹی‘ یا ’وفاداری کا گیت‘ پیش کیا جائے گا۔

یہ واضح نہیں ہے کہ فیدل کاسترو اس مرکزی تقریب میں شرکت کر پائیں گے یا نہیں۔ وہ بہت کم ہی عوامی تقریبات میں دکھائی دیتے ہیں۔ قیاس ہے کہ وینزویلا کے صدر اور کاسترو کے مداح اوگو شاویز اس تقریب میں شرکت کر سکتے ہیں۔ شاویز کینسر کے عارضے میں مبتلا ہیں اور وہ کیوبا ہی میں زیر علاج ہیں۔

فیدل کاسترہ تیرہ اگست انیس سو چھبیس کو ایک خوشحال خاندان میں پیدا ہو ئے تھے۔ ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ کاسترو کے انقلاب کی صورت میں کیوبا سے کمیونزم کا بھی خاتمہ ہو جائے گا تاہر کیوبا کی حکومت کا مؤقف ہے کہ کاسترو کی رحلت انقلاب کی اساس کو تبدیل نہیں کر پائے گی۔

رپورٹ: شامل شمس⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM