فٹ بال کے میدان سے ایوان صدر میں داخل ہونے والے جارج وِیّا | کھیل | DW | 29.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

فٹ بال کے میدان سے ایوان صدر میں داخل ہونے والے جارج وِیّا

مغربی افریقی ملک لائبیربا کا صدارتی الیکشن جورج وِیّا نے جیت لیا ہے۔ وِیّا عالمی شہرت یافتہ فٹ بالر بھی رہ چکے ہیں۔ ان کی عمر اکاون برس ہے۔

لائبیریا میں پہلی مرتبہ جمہوری روایات کے تحت اقتدار کی منتقلی کا عمل ایک قدم اور آگے بڑھ گیا ہے۔ بین الاقوامی شہرت کے حامل فٹ بالر جارج وِیّا نے صدارتی الیکشن کا دوسرا مرحلہ باوقار انداز میں جیت لیا ہے۔ وہ براعظم افریقہ کی پہلی خاتون صدر ایلین جانسن سرلیف کی جگہ منصب صدارت سنبھالیں گے۔ وِیّا سولہ جنوری سن 2018 کو اپنے منصب کا حلف اٹھائیں گے۔

لائبیریا میں ایبولا کے خلاف ’پیش رفت‘

مغربی افریقہ ملکوں کے دورے پر جرمن، فرانسیسی اور امریکی حکومتوں کے اعلیٰ نمائندے

ایبولا وائرس، لائبیریا کی صدر نے اوباما سے براہ راست مدد اپیل کر دی

لائبیریا کے سابق صدر چارلس ٹیلر پر عالمی عدالت میں مقدمہ

لائبیریا کے نیشنل الیکشن کمیشن کے سربراہ نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ تقریباً تمام ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے اور جارج وِیّا خاصی بڑی سبقت رکھتے ہیں۔ اس سابق فٹ بالر کو صدارتی الیکشن کے دوسرے مرحلے میں موجودہ نائب صدر جوزی بوکائی کا سامنا تھا۔ بوکائی نے الیکشن میں اپنی شکست تسلیم کر لی ہے۔

جارج وِیّا کی سیاسی جماعت ’کانگریس برائے جمہوری تبدیلی‘ ہے اور اُس کے نوجوانوں کے شعبے کی نائب صدر جوزفین ڈیویز نے کہا کہ یہ جماعت گزشتہ بارہ برسوں سے اپوزیشن میں رہتے ہوئے کسی بڑی تبدیلی کی منتظر تھی اور وِیّا کی کامیابی لائبیریا کے لیے ایک سنگ میل ہے۔ خود وِیّا نے بھی اپنے پیغام میں کہا ہے کہ اب لائبیریا میں تبدیلی کا عمل شروع ہو گیا ہے۔

Liberia, Anhänger von George Weah, ehemaliger Fußballspieler und Präsidentschaftskandidat der Koalition für den demokratischen Wandel, feiern nach der Bekanntgabe der Ergebnisse der Präsidentschaftswahlen in Monrovia (Reuters/T.Gouegnon)

وِیّا کے صدارتی الیکشن جیتنے پر اندرون ملک عوام کی جانب سے مسرت کا بھرپور انداز میں اظہار کیا جا رہا ہے

جارج وِیّا سن 1990 کی دہائی میں یورپ کے مشہور فٹ بال کلبوں پیرس سینٹ جرمین اور اے سی میلان سے وابستہ رہے تھے۔ وہ کچھ عرصے کے لیے برطانوی فٹ بال کلبوں چیلسی اور مانچسٹر سٹی کی بھی نمائندگی کر چکے ہیں۔ اُن کو براعظم افریقہ کا پیلے بھی کہا جاتا ہے۔

وِیّا تین مرتبہ افریقہ کے بہترین فٹ بالر کا اعزاز جیتنے کےعلاوہ پہلے افریقی فٹ بالر تھے جنہیں سن 1990 میں دنیا کا بہترین فٹ بالر قرار دیا گیا تھا۔ وہ ایک فارورڈ کھلاڑی تھے اور میدان میں اُن کو کنگ جارج کی عرفیت سے پکارا جاتا تھا۔

 Liberia Wahlen Joseph Boakai (l) und George Weah (R) (picture alliance/dpa/epa/Reynolds/Jallanzo)

جورج وِیّا کو نائب صدر جوزف بوکائی کا سامنا تھا

جارج وِیّا کے صدارتی الیکشن جیتنے پر اندرون ملک عوام کی جانب سے مسرت کا بھرپور انداز میں اظہار کیا جا رہا ہے۔ غیر ملکی سربراہان کی جانب سے مبارک باد کا سلسلہ شروع ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ لائبیریا کے عوام کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔

لائبیریا کے متعلق یہ کہا جاتا ہے کہ اس کو آزاد ہونے والے امریکی غلاموں نے آباد کیا تھا۔ یہ پہلا افریقی ملک ہے جس نے 26 جولائی سن 1847 کو اپنی آزادی کا اعلان کیا تھا۔ یہی ملک براعظم افریقہ میں سب سے پرانی اور پہلی جمہوریہ بھی سمجھا جاتا ہے۔

DW.COM