1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

فٹ بال کا عالمی کپ، کل سے شروع

جنوبی افریقہ میں فٹ بال کا عالمی کپ شروع ہونے میں اب صرف ایک دن ہی باقی ہے۔ انیسویں عالمی کپ کا آغاز گیارہ جون کو جوہانسبرگ میں میزبان جنوبی افریقہ اور میکسیکو کے درمیان میچ سے ہو گا۔

default

دنیا میں کسی بھی کھیل کو اتنی پذیرائی نہیں ملتی، جتنی کہ فٹ بال کو اور یہ کھیل سب سے زیادہ دیکھا بھی جاتا ہے۔ ہرمرتبہ کی طرح اس دفعہ بھی اربوں افراد گیارہ جولائی تک جاری رہنے والے یہ مقابلے ٹیلی وژن اسکرینز پر دیکھیں گے اور اپنی پسندیدہ ٹیموں کی حوصلہ افزائی کریں گے۔ اس میں ان کا ساتھ دے گا وہ میوزک، جو فٹ بال کے مختلف مقابلوں کے موقع پرخصوصی طور پر ریلیز کیا جاتا ہے۔

Flash-Galerie WM 1970 Pele Brasilien gegen Tschechoslowakei

پیلے کا ایک تاریخی فوٹو

اس مرتبہ فیفا عالمی کپ کا آفیشل گیت ہی ’واکا واکا‘ جسے کولمبیا سے تعلق رکھنے والی گلوکارہ شاکیرہ نے گایا ہے۔ اس گیت نے جنوبی افریقہ میں فٹ بال کے ماحول کو چار چاند لگانے میں اہم کر دار ادا کیا ہے۔ شاکیرہ کےگیت پرکچھ حلقوں نے اعتراض بھی کیا کہ ’واکا واکا ‘ کے لئے جنوبی افریقہ کے کسی گلوکار کا کیوں انتخاب نہیں کیا گیا؟ بہرحال اس کے باوجود یہ گیت اکثریتی جنوبی افریقی باشندوں کے لبوں پر ہے۔ ’واکا واکا‘ کی فروخت سے حاصل ہونے والی رقم افریقہ میں مختلف امدادی منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔

Manolo mit der Pauke erlebt die siebte WM

اس مرتبہ بھی اربوں تماشائی ان مقابلوں کو دیکھیں گے

فٹ بال کے کھیل نے کئی لیجنڈزکو جنم دیا ہے۔ دنیا بھر میں ارجنٹائن کے ڈیاگو میراڈونا، جرمن کھلاڑی بیکن باؤر اور فرانس کے زیڈان اپنی ایک پہچان رکھتے ہیں۔ لیکن جو مقام برازیل کے کھلاڑی ’پیلے‘ کا ہے وہ فٹ بال کی تاریخ میں آج تک کوئی بھی کھلاڑی حاصل نہیں کر سکا۔ انتہائی غریب خاندان سے تعلق رکھنے والے ’پیلے‘ کا اصل نام ایڈسن آرانتیس دو ناسیمینتوس تھا۔ فٹ بال کی عالمی تنظیم فیفا نے ’پیلے‘ کو صدی کے بہترین فٹ بالر کا خطاب بھی دیا ہے۔

1958ء میں برازیل سویڈن میں ہونے والے ورلڈ کپ میں پہلی مرتبہ عالمی چیمپئن بنا تھا اور اس وقت سترہ سالہ ’پیلے‘ اس ٹیم کا حصہ تھے۔ لاطینی امریکہ کا یہ ملک اب تک پانچ مرتبہ فٹ بال کا عالمی چیمپئن رہ چکا ہے۔ اس کے بعد اٹلی چار مرتبہ جبکہ یہ ٹرافی جرمنی کے حصے میں تین دفعہ آئی ہے۔

Fußball-Legende Pele im Jahr 2004

پیلے سے زیادہ شہرت آج تک کسی اور فٹ بالر کے حصے میں نہیں آئی

فٹ بال کا پہلا عالمی کپ1930ء میں یوراگوئے میں منعقد ہوا تھا۔ اس وقت اس ٹورنامنٹ میں تیرہ ٹیموں نے حصہ لیا تھا۔ ستر ہزار تماشائی مونتیودیو میں ہونے والے فائنل میں موجود تھے اور میزبان یوراگوئے نے ارجنٹائن کو چار دو سے شکست دے کر فٹ بال کی تاریخ کا پہلا عالمی کپ اپنے نام کیا تھا۔

2002ء میں آخرکار فٹ بال نے ایشیا کا رخ کیا اور عالمی کپ جنوبی کوریا میں کھیلا گیا۔ روایت ہے کہ اس کھیل کی ابتداء بھی ایشیا سے ہی ہوئی تھی۔ کہتے ہیں کہ 2600 قبل مسیح میں چین کے ایک بادشاھ ’ہوآنگدی‘ نے فٹ بال کو متعارف کرایا۔ یہ فٹ بال کی ایک مختلف قسم تھی، تاہم فٹ بال کا مادری وطن برطانیہ کو کہا جاتا ہے۔ 1350ء میں برطانیہ کے بادشاھ ایڈورڈ سوئم نے جنگی مشقوں میں خلل کی وجہ سے فٹ بال پر پابندی عائد کر دی تھی۔ بادشاھ کے اس حکم کے باوجود برطانیہ میں فٹ بال چوری چھپے جاری رہا اور 1863ء میں دنیا کی پہلی فٹ بال ایسوسی ایشن بھی برطانیہ میں ہی قائم کی گئی۔ انگلینڈ اب تک صرف ایک مرتبہ 1966ء میں ہی عالمی چیمپئن بن سکا ہے۔

جنوبی افریقہ میں ہونے والے عالمی کپ کے لئے 204 میں سے 32 ٹیمیں منتخب ہوئی ہیں۔ اس مرتبہ 64 میچز کھیلے جائیں گے اور فائنل گیارہ جولائی کواسی گراؤنڈ میں کھیلا جائے گا، جہاں سے اس کی ابتدء ہو گی یعنی جوہانسبرگ۔

رپورٹ : عدنان اسحاق

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM