1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

فٹ بال چیمپئن شپ: شائقین کے مابین جھڑپیں

فرانس میں جاری یورو فُٹ بال کپ 2016ء میں گروپ بی کے میچ کے دوران اسٹیڈیم میں شائقین کے مابین جھڑپیں ہوئیں۔ انگلینڈ اور روس کے مابین کھیلے گئے ميچ کے اختتام پر دونوں طرف کے شائقین ایک دوسرے کے ساتھ دست و گریباں ہوئے۔

فرانسیسی شہر مارسے میں ہفتے کی شام انگلستان اور روس کی ٹیموں کے درمیان میچ کھیلا گیا تھا۔ یہ میچ ایک ایک گول سے برابر رہا۔ میچ کے بعد سینکڑوں شائقین میں کسی معمولی سے بات پر اشتعال پیدا ہو گیا اور انہوں نے آپس میں ہاتھا پائی شروع کر دی۔ اس موقع پر پولیس نے اشتعال انگیز ہجوم کو منتشر کرنے کی کوشش کی تو پولیس کے ساتھ بھی ان کا تصادم ہوا۔ ان پُر تشدد واقعات میں کم از کم چونتیس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

کئی شائقین کرسیاں اٹھائے ہوئے تھے اور بعض اپنی قمیضیں اتار کر غصے میں للکارتے پھر رہے تھے۔ سماجی ماہرین کے مطابق فرانس میں فٹ بال کے شائقین میں لڑائی جھگڑے کا وائرس ایک مرتبہ پھر پھیلتا دکھائی دے رہا ہے۔

جنوبی فرانسیسی شہر کی پولیس کے ایک اہلکار لاراں نُون کا کہنا ہے کہ ایسا دکھائی دے رہا تھا کہ انگریز شائقین کے لیے یہ زندگی موت کا معاملہ ہے۔ مارسے میں جھگڑا کرنے والے شائقین ایک دوسرے پر بوتلیں اور مختلف کیفیز اور ریستورانوں کی کرسیاں اٹھا اٹھا کر ایک دوسرے پر پھینک رہے تھے۔

پولیس نے اِن مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا بھی استعمال کیا۔ پولیس کے مطابق ایک شخص پر چند مشتعل افراد نے لوہے کی سلاخ سے تشدد بھی کیا۔ اِس زخمی شخص کو فوری طبی امداد کے لیے ایک ہسپتال کی ایمرجنسی میں پہنچا دیا گیا۔

UEFA EURO 2016 England - Russland Ausschreitungen in Marseille

فرانسیسی پولیس نے اِن مشتعل افراد کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا بھی استعمال کیا

ہفتے کی شام یورو چیمپئن شپ کے ایک اور میچ کے بعد فرانس کے ساحلی شہر نیس میں بھی مشتعل شائقین کی طرف سے ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ شمالی آئرلینڈ کے شائقین نے مقامی نوجوانوں کے ساتھ جھگڑے کیے اور کئی ایک کو مارا پیٹا۔ نیس شہر میں کم از کم سات افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ مقامی پولیس نے ایک شخص کی حالت نازک بتائی ہے۔

انگریز شائقین کا کہنا ہے کہ جھڑپوں کی وجہ روسی شہری تھے۔ انگلستان کے ایک شہری کے مطابق ایک سو کے قریب روسی ایک گروہ کی شکل میں نمودار ہوئے اور انہیں جو کچھ ملا انہوں نے اُسے انگریز شائقین پر پھینکنا شروع کر دیا اور یہی جھگڑے کی ابتدا تھی۔ دوسری جانب ایک انگریز شہری ڈینی ہارٹ کا کہنا تھا کہ شائقین صبح ہی سے بیئر پینے میں مصروف تھے اور میچ شروع ہونے پر وہ اپنے ہوش و ہواس پر پوری طرح قابو نہ رکھ پائے اور اشتعال انگیزی پر اُتر آئے۔

فرانسیسی پولیس نے ہفتہ کی رات چھ افراد کو گرفتار کیا ہے جبکہ ایک روز قبل جمعہ کے دن سات فسادیوں کو حراست میں لیا گیا تھا۔

DW.COM