1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

فٹ بال: بہترین کلبوں کی عالمی چیمپیئن شپ ابو ظہبی میں

خلیجی ریاست ابو ظہبی میں دنیا کی بہترین اور چیمپیئن فٹ بال کلبوں کے درمیان عالمی چیمپیئن شپ کا آغاز ہو گیا ہے۔ اِس کا فائنل میچ اُنیس دسمبر کو کھیلا جائے گا۔

default

برسیلونا کلب کا لوگو

ابو ظہبی میں فٹ بال کھیل کے نگران بین الاقوامی ادارے فیفا کی اِس سال کے دوران کھیلی جانے والی ایک اور عالمی چیمپیئن شپ کا باوقار انداز میں آغاز ہو گیا ہے۔ اِس چیمپیئن شپ میں دنیا کے چھ خطوں کی چیمپیئن کلبیں حصہ لیتی ہیں۔ اس سے قبل ابوظہبی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کہ وہاں اِس سال فارمولا ون کار ریسنگ کا شاندارانعقاد ، ناقدین کی ستائش کا موجب بنا۔

سن دو ہزار نو کی کلبوں کی فٹ بال چیمپیئن شپ کا آغاز نو تاریخ سے ہوا۔ ۔ اِس ٹورنامنٹ کے سلسلے میں کھیلے جانے والے میچ ابو ظہبی کے دو مختلف سٹیڈیمز میں منعقد کئے جائیں گے۔ ایک میدان شیخ زید سٹیڈیم ہے جہاں پینتالیس ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے جبکہ دوسرا سٹیڈیم زید سپورٹس سٹی میں واقع ہے۔ دونوں میدان بین الاقوامی نوعیت کے ہیں۔

ابو ظہبی میں جاری ٹورنامنٹ میں یورپی چیمپیئن کلب بارسلونا کے علاوہ میزبان ملک کی الاہلی کلب کے ساتھ چار دوسری ٹیمیں ہیں۔ لاطینی امریکہ کی چیمپیئن کلب Estudiantes ٹورنامنٹ میں شریک ہے۔ ایشیئن چیمپیئن لیگ کی جیتنے والی ٹیم جنوبی کوریا کے فٹ بال کلب پوہانگ سٹیلرز ہے۔ اِن کے ساتھ ساتھ میسیکو کی اٹلانٹا اور نیوزی لینڈ کی آک لینڈ سٹی بھی شریک ہے۔

سن دو ہزار دس میں بھی یہ ٹورنامنٹ ابو ظہبی میں کھیلا جائے گا البتہ سن دو ہزار گیارہ اور بارہ میں اِس چیمپیئن شپ کو جاپان کی میزبانی حاصل ہو گی۔

Champions League FC Barcelona Manchester Flash-Galerie

چیمپئین لیگ ٹرافی کی فاتح بارسلونا بھی اس ٹورنامنٹ میں شریک ہے

اپنی نوعیت کی اس منفرد عالمی چیمپیئن شپ کی ابتدا سن دو ہزار میں فیفا کی جانب سے ہوئی تھی۔ اگر دیکھا جائے تو بہترین فٹ بال کلبوں کی پہلی عالمی چیمپیئن شپ برازیل میں سن دو ہزار میں کھیلی گئی تھی۔ شروع میں یہ چیمپیئن شپ انٹرکانٹیننٹل کپ کے نام سے بھی متعارف کروائی گئی تھی۔ ایک دوسری شروعات کے مطابق یورپی کلب چیمپیئن اور جنوبی امریکہ کی چیمپیئن کلب کے درمیان میچ بھی انٹر کانٹیننٹل کپ کی بنیاد ہے۔ یہ میچ جاپان کے دارالحکومت ٹوکیو میں کھیلا جاتا تھا۔ اِسی باعث اِس کو ٹویوٹا کی جانب سے سپانسرشپ پر ملنے پر ٹویوٹا کپ کا نام بھی دیا گیا ہے۔ سن دو ہزار پانچ میں اِس میں مزید اختراعات پیدا کی گئیں اور یوں ایک اور عالمی چیمپیئن شپ سالانہ بنیادوں پر شروع ہو گئی۔

سن دو ہزار سے اِس میں شریک ٹیموں کی تعداد بھی بدلتی رہتی تھی۔ لیکن سن دو ہزار پانچ سے اِس کی مکمل شکل اپنی نئی پہچان کے ساتھ متعارف کروادی گئی تھی۔ پہلے اس ٹورنامنٹ کی شیڈولنگ بھی ایک مسئلہ تھا تاہم سن دو ہزار پانچ کے بعد ٹیموں کی تعداد میں کمی کے بعد اِس کے انعقاد میں بھی آسانی دیکھنے میں آئی۔ اب یہ چیمپیئن شپ سالانہ بنیادوں پر کھیلی جاتی ہے۔ اِس میں شریک ٹیموں کے لئے انعام کی مالیت میں بھی مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ گزشتہ سال جیتنے والی کلب کو پانچ ملین ڈالر کی انعامی رقم دی گئی تھی۔ فائنل ہارنےوالی ٹیم کو چار ملین ڈالر کی انعامی رقم دی گئی۔

فیفا کی جانب سے چیمپیئن شپ کا بیج بھی متعارف کروایا گیا ہے، جو جیتنے والی کلب کے کھلاڑی سال بھر مختلف میچوں میں اپنی ٹی شرٹ پر لگا سکتے ہیں۔ گزشتہ سال یہ ٹرافی مانچسٹر یونائیٹڈ نے جیتی تھی لیکن اِس سال یہ کلب چیمپیئن شپ میں شامل نہیں کیونکہ اُسے بارسلونا کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اِسی طرح بہترین کھلاڑیوں میں گولڈن، سلور اور کانسی کے بنے فت بال تقسیم کئے جاتے ہیں۔ گزشتہ سال انگلینڈ کے وائن رونی کو گولڈن بال کا حقدار ٹھہرایا گیا تھا۔

FIFA Präsident Sepp Blatter

فیفا کے صدر سیپ بلیٹر

سن دو ہزار نو کی کلبوں کی فٹ بال چیمپیئن شپ کا آغاز متحدہ عرب امارت کی ریاست ابو ظہبی میں شروع ہو گیا ہے۔ نو تاریخ سے یہ ٹورنامنٹ جاری ہے۔ اِس کے انعقاد ابو ظہبی کے دو مختلف سٹیڈیم میں کیا گیا ہے۔ ایک میدان شیخ زید سٹیڈیم ہے جہاں پینتالیس ہزار شائقین کے بیٹھنے کی گنجائش ہے۔ دوسرا سٹیڈیم زید سپورٹس سٹی میں واقع ہے۔ دونوں میدان بین الاقوامی نوعیت کے ہیں۔

ابو ظہبی میں جاری ٹورنامنٹ میں یورپی چیمپیئن کلب بارسیلونا کے علاوہ میزبان ملک کی الاہلی کلب کے ساتھ چار دوسری ٹیمیں ہیں۔ لاطینی امریکہ کا چیمپیئن کلب Estudiantes ٹورنامنٹ میں شریک ہے۔ ایشیئن چیمپیئن لیگ کی جیتنے والی ٹیم جنوبی کوریا کے فٹ بال کلب پوہانگ سٹیلرز ہے۔ اِن کے ساتھ ساتھ میسیکو کی اٹلانٹا اور نیوزی لینڈ کی آک لینڈ سٹی بھی شریک ہے۔

سن دو ہزار دس میں بھی یہ ٹورنامنٹ ابو ظہبی میں کھیلا جائے گا البتہ سن دو ہزار گیارہ اور بارہ میں اِس چیمپیئن شپ کو جاپان کی میزبانی حاصل ہو گی۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عاطف بلوچ