1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

’فٹ بالر نسلی تعصب برتنے والے مخالف سے ہاتھ ملائیں‘ بلاٹر

فٹ بال کی بین الاقوامی تنظیم فیفا کے صدر سیپ بلاٹر کا کہنا ہے کہ میدان میں جن کھلاڑیوں کی نسلی بنیادوں پر بے عزتی کی جائے وہ اسے مقابلے کا ہی حصہ سمجھے اور بعد میں سب کچھ بھلا کر بے عزتی کرنے والے حریف سے ہاتھ ملائے۔

default

بین الاقوامی نشریاتی اداروں سی این این اور الجزیزہ کو دیے گئے انٹریو میں بلاٹر کے ان الفاظ نے جلتی پر تیل کا کام کیا ہے۔ بلاٹر گزشتہ سال کے عالمی مقابلے کے بعد کہہ چکے ہیں کہ فٹ بال سے نسلی تعصب ختم ہوچکا ہے۔ حال ہی میں نسلی بنیاد پر غیر شائستہ بیان کا سامنا کرنے والے انگلینڈ کے دفاعی کھلاڑی ریو فیرڈیننڈ نے بلاٹر کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ مانچسٹر کلب کی نمائندگی کرنے والے فیرڈیننڈ کے بقول، ’’ میں یہ سوچتے ہوئے خود کو بیوقوف محسوس کرتا ہوں کہ فٹ بال منفی نسلی رویے کے خلاف مرکزی کردار ادا کر رہا ہے۔‘‘

صورتحال کی نزاکت کو جانچتے ہوئے فیفا کی جانب سے بلاٹر کا ایک وضاحتی بیان جاری کیا گیا۔ فٹبال کے عالمی ادارے کے صدر نے مؤقف اختیار کیا کہ فٹ بال کے مقابلے کے دوران کھلاڑیوں کے درمیان مقابلہ ہوتا ہے اور بعض مرتبہ ایسے کام کیے جاتے ہیں جو غلط ہیں، ’’ لیکن عمومی طور پر اگر آپ کی کسی سے مڈ بھیڑ ہوجائے تو دن کے اختتام پر آپ اپنے حریف سے معافی مانگتے ہیں ہاتھ ملاتے ہیں اور جب کھیل ختم ہوجاتا ہے تو سب کچھ وہیں ختم ہوجاتا ہے۔‘‘

Mexiko Uruguay WM Weltmeisterschaft Fifa Fußball Flash-Galerie

لوئس زاؤریس

اس کے ساتھ انہوں نے اعتراف کیا کہ وہ معاشرے اور کھیل کے میدان میں منفی نسلی رویے جیسے مسئلے کی موجودگی سے انکار نہیں کرتے اور اسے ختم کرنے کے لیے پر عزم ہیں۔

فٹ بال میں منفی نسلی رویے کا یہ تازہ معاملہ یورو گوائے کے سٹرائیکر لوئس زاؤریس پر الزام ثابت ہونے کے بعد ابھرا ہے۔ لیور پول کے لیے کھیلنے والے زاؤریس نے مانچسٹر یونائیٹڈ کے پیٹریکا ایورا کو نسلی تعصب کا نشانہ بنانے والے کلمات ادا کیے تھے۔ یہ معاملہ گزشتہ ماہ پیش آیا تھا اور اس کی تحقیقات اب مکمل ہوئی ہیں۔ ایورا نے 15 اکتوبر کے میچ کے فوری بعد دعویٰ کر دیا تھا کہ زاؤریس نے کم از کم دس بار ان پر نسلی تعصب والے جملے کسے ہیں۔ میچ کی ویڈیوز میں ان کا یہ دعویٰ درست ثابت ہوا۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: افسر اعوان

DW.COM