1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فٹبال ڈپلومیسی یامالی بحران پرمذاکرات:میرکل سارکوزی ملاقات

یورو زون ان دنوں، اب تک کے بد ترین بحران سے گُزر رہا ہے۔ ایسے میں جرمنی اور فرانس کے قائدین کی پیر کے روز جرمن دارلحکومت برلن میں ہونے والی ملاقات غیر معمولی اہمیت کی حامل تھی۔

default

جرمن چانسلر اور فرانسیسی صدر

برلن میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سارکوزی نے کہا ’میں سب سے پہلے تمام جرمن عوام کو ان کی فٹ بال ٹیم کی طرف سے ورلڈ کپ کے شاندارآغازپر،آسٹریلیا کے خلاف جرمن ٹیم کی واضح جیت پردلی مبارکباد پیش کرتا ہوں‘۔ سفارتکاری کے آداب نبھاتے ہوئے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جرمن چانسلر بھی فرانسیسی صدر کو فٹ بال ورلڈ کپ میں ان کی ٹیم کی کارکردگی پر مبارکباد پیش کرتیں تاہم یہ ممکن نہ تھا کیوں کہ جرمنی کے برعکس فرانس کی ٹیم اپنے پہلےاوراب تک کھیلے گئے ایک میچ میں پیراگوائے کی ٹیم کے ساتھ صفر صفر کے اسکور سے میچ بمشکل برابر کر پائی۔

Angela Merkel und Nicolas Sarkozy

برلن ملاقات میں انگیلا میرکل اور نکولا سارکوزی

انگیلا میرکل نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے تاہم یہ ضرور کہا کہ ’ فرانس اور جرمنی دوستانہ ماحول میں بات چیت کر سکتے ہیں اوردونوں ملکوں کے سربراہان کے مابین ہونے والے مذاکرات اس کا ثبوت ہیں کہ جرمنی اورفرانس یورپ کا مستقبل سنوارنے کے خواہشمند ہیں‘۔

جرمن چانسلر انگیلا میرکل اورفرانسیسی صدر نکولا سارکوزی نے یوروزون کے مستقبل کو کسی حد تک مستحکم بنانے کے لئے یورپ کی آئندہ جمعرات کواقتصادی پالیسیوں پر غوروخوض کیا اور یورپ کی مستقبل کی مالیاتی پالیسی کے بارے میں برلن اور پیرس کے مابین پائے جانے والے اختلافات کو ایک طرف رکھتے ہوئے میرکل اور سارکوزی نے چند اہم امور پراتفاق کیا اور اس بات کا عندیہ دیا کہ وہ آئندہ برسلزمیں ہونے والے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں ’ رکاوٹیں پیدا کرنے کے بجائے اس اتحاد کو مزید متحرک بنانے کی کوشش کریں گے‘۔

میرکل اور سارکوزی کے مابین اس امر پر اتفاق ہوگیا ہے کہ مستقبل میں یورو زون کے محض 16 ممالک نہیں بلکہ یورپی یونین کی تمام 27 ممبرریاستیں مربوط ہوکراپنی اپنی اقتصادی پالیسیاں وضح کریں گے۔ دراصل یہ تصور فرانسیسی صدرکا پیش کردہ تھا اور انہوں نے ایک ’اقتصادی حکومت‘ کی اصطلاح بھی استعمال کی تھی اور اُن کی یہ خواہش بھی تھی کہ

NO FLASH Treffen Merkel Sarkozy

پریس کانفرنس کے موقع پر جرمن چانسلر اور فرانسیسی صدر کا کلوز اپ

یورو زون کے 16 ممالک کی اقتصادی پالیسی امورکی نگرانی کے لئے ایک خصوصی سیکریٹیریٹ بھی قائم کیا جائے۔ تاہم جرمن چانسلر نے اس خیال کو یہ کہہ کر رد کردیا کہ ’ ایک ایسی اقتصادی حکومت کی ضرورت ہے جویورپی یونین کے تمام 27 اراکین کے لئے یکساں کام کرے اوران کے مابین تقسیم یا دراڑ کا باعث نہ بنے‘۔

میرکل نے یورپی اقتصادی بحران سے نمٹنے کے لئے کسی نئے ادارے کے قیام کے نظریے کو رد کرتے ہوئے کہا کہ مستقبل میں عملیت پسندی سے کام لینا ہوگا اورفرانسیسی صدربھی یہی چاہتے ہیں۔ جرمن چانسلر کی اس سے مراد یہ ہے کہ مستقبل میں اگر یونان کے اقتصادی بحران جیسی کوئی صورتحال سامنے آئے تو 27 رکنی یورپی یونین میں کسی فیصلے کے عمل میں پیچیدگی پیدا ہونے کی صورت میں یورو زون میں شامل 16 ممالک کی حکومتوں کو بھی مسئلے کے حل کی تلاش میں مدد کے لئے شامل کیا جائے۔ فرانسیسی صدر نے اس امر پر اتفاق کر لیا، حالانکہ ان کے لئے یہ امر کسی حد تک مایوسی کا باعث تھا کہ آئندہ پیرس میں یورپی یونین کا کوئی ایسا ادارہ قائم نہیں ہوگا جو یورپ کے مرکزی بینک کا ہم پلہ ہو۔

فرانس اورجرمنی کی طرف سے ایک مشترکہ تجویز پیش کی گئی ہے اور اس کے مطابق یورپی یونین میں شامل ایسی ریاستوں پر آئندہ سے پابندیاں لگائی جانی چاہیں جو اپنے ملکی بجٹ کو مناسب طریقے سے ترتیب دینے اور اس میں نظم و ضبط پیدا کرنے میں ناکام رہیں۔ جرمانے کے طورپران سے یورپی یونین میں ووٹنگ کا حق چھین لیا جانا چاہئے۔ اس بارے میں تاہم یورپی یونین کے موجودہ قوانین میں ممکنہ طور پرتبدیلیاں لانا ہوں گی۔ جس پر آئندہ برسلز میں ہونے والے یورپی یونین کے سربراہی اجلاس میں بحث ہوگی۔

دریں اثناء اناطولیا نیوز ایجنسی کے مطابق ترکی متعینہ فرانسیسی سفیر ’برنارڈ ایمے‘ نے کہا ہے کہ سارکوزی سال رواں کے اواخر یا آئندہ سال کے شروع میں ترکی کے دورے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اس کا مقصد دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی نظریات پر بات چیت کرنا ہوگا۔ یاد رہے کہ فرانسیسی صدر ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت کی مخالفت کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ترکی یورپ کا حصہ نہیں ہے۔ ان کے اس خیال کو تقویت دیتے ہوئے جرمن چانسلر کا بھی یہ کہنا ہے کہ ترکی کو یورپی یونین کی رکنیت کے بجائے ایک خصوصی ’پارٹنر شپ‘ کا رتبہ دیا جانا چاہئے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: عابد حسین

DW.COM