1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

NRS-Import

فُٹ بال کھلاڑیوں کی ذہنی بیماریاں

فعال اور ریٹائرڈ فُٹ بال کھلاڑیوں میں ڈپریشن اور دیگراعصابی بیماریوں کے بارے میں فُٹ بال کے بین الاقوامی کھلاڑیوں کی ترجمانی کرنے والی ایک تنظیم نے مطالعاتی جائزے کی رپورٹ شائع کی ہے۔

دنیا کے پیشہ ور فُٹ بال کھلاڑیوں کی ترجمانی کرنے والے ادارے FiFPro کی طرف سے شائع ہونے والی ایک حالیہ مطالعاتی جائزے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موجودہ فُٹ بال کھلاڑیوں کی ایک تہائی سے زیادہ تعداد ڈپریشن اور اعصابی بیماریوں کا شکار ہے۔

یہ تحقیقی مطالعہ FiFPro کے چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر وینسینٹ گاؤٹیبارگ کی سربراہی میں کیا گیا۔ اس کے نتائج سے پتہ چلا کے فُٹ بال کے موجودہ 607 فعال کھلاڑیوں میں سے 38 فیصد اور 219 سابقہ فُٹ بال کھلاڑیوں کے 35 فیصد میں ڈپریشن پا پژمردگی اور اعصابی خلل کی علامات پائی جاتی ہیں۔

Fußball Freundschaftsländerspiel Deutschland Trikot Robert Enke

موجودہ 607 فعال کھلاڑیوں میں سے 38 فیصد کسی نا کسی ذہنی عارضے میں مبتلا ہیں

اس مطالعاتی جائزے سے کھلاڑیوں کو لگنے والے شدید زخموں اور ڈپریشن کی کیفیت کے مابین ایک گہرے تعلق کے شواہد بھی ملے ہیں۔ تین یا اس سے زیادہ مرتبہ شدید زخمی ہونے والے کھلاڑیوں میں دیگر کھلاڑیوں کے مقابلے میں ذہنی صحت سے متعلق مسائل دو سے چار گنا تک زیادہ پائے جاتے ہیں۔

ڈاکٹر وینسینٹ گاؤٹیبارگ نے ایک بیان میں کہا،’’ ہمیں امید ہے کہ اس مطالعے کی رپورٹ منظر عام پر آنے سے فُٹ بال کے کھیل کے اسٹیک ہولڈرز کی اس بارے میں آگاہی بڑھے گی اور وہ فُٹ بال کھلاڑیوں کی امداد و حمایت کے لیے مزید اقدامات کریں گے اور اس طرح ذہنی بیماری کے شکار فُٹ بال کھلاڑی خود کو تنہا محسوس نہیں کریں گے‘‘۔

Robert Enke

2009 ء میں خود کُشی کرنے والا جرمن فٹ بال کھلاڑی رابرٹ اینکے

ڈاکٹر گاؤٹیبارگ نے اس مطالعہ کے بارے میں کہا " یہ فعال اور ریٹائرڈ کھلاڑیوں کی پائیدار صحت کی حفاظت اور اُن کو بااختیار بنانے اور مناسب احتیاطی اور معاون اقدامات کی تجویز میں ضروری اور پہلا قدم تھا۔‘‘

یاد رہے کہ نومبر 2009 ء میں معروف جرمن فُٹ بال کھلاڑی اور اُس وقت کی جرمن ٹیم کے گول کیپر رابرٹ اینکے نے ڈپریشن کا شکار ہو کر خود کُشی کر لی تھی۔ اس کے باوجود ذہنی صحت کا موضوع پیشہ ور فُٹ بال کی مردانہ دنیا کا آخری ٹابو یا شجر ممنوعہ موضوع تصور کیا جاتا ہے۔

DW.COM