1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فوکو شیما کے متاثرین کے لیے امدادی رقوم

زلزلے اور سونامی سے متاثر ہونے والے فوکو شیما کے ایٹمی بجلی گھر کا آپریٹر ادارہ متاثرہ گھرانوں کو مالی تلافی کی رقوم ادا کرے گا۔

default

ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی ٹیپکو نے جمعہ کو اعلان کیا کہ وہ اس جوہری بجلی گھر سے تیس کلو میٹر کے رداس میں رہنے والے ہر گھرانے کو ایک ملین ین یعنی 11 ہزار نو سو امریکی ڈالر بطور ازالہ ادا کرے گا۔

جاپان کے شمال مشرق میں فوکو شیما کے ڈائچی نامی پلانٹ کے آپریٹر ادارے کے صدرماسا تاکا شیمی زُو نے جمعہ کو ایک نیوز کانفرنس میں تصدیق کی کہ تمام متاثرہ افراد کو تلافی رقوم ادا کی جائیں گی۔ اس پلانٹ کے چاروں اطراف تیس کلو میٹر تک کے علاقے میں قریب 48 ہزار گھرانے آباد تھے، جو تمام اس ادائیگی کے حقدار ہوں گے۔

جاپان کا متاثرہ جوہری بجلی گھر

جاپان کا متاثرہ جوہری بجلی گھر

گیارہ مارچ کے زلزلے اور سونامی کے بعد سے ہی ڈائچی پلانٹ سے تابکاری مادہ خارج ہو رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں حکام نے اس علاقے میں رہنے والے افراد کو اپنے گھروں میں ہی رہنے یا پھرعلاقہ چھوڑ دینے کی ہدایات جاری کی تھیں۔ ٹیپکو متاثرہ علاقے کی صورتحال کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ بتایا گیا ہے کہ متاثرہ جوہری ری ایکٹرز سے خارج ہونے والا تابکاری مادہ زیر زمین پانی میں شامل ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق زیر زمین پانی کو اگر صاف نہ کیا گیا تو اس کے دور رس منفی نتائج برآمد ہوں گے۔

ٹیپکو کی طرف سے متاثرین کے لیے تلافی رقوم کا اعلان اس وقت کیا گیا، جب ٹوکیو حکومت نے بھی اسے کہا کہ وہ متاثرین کی بحالی کے لیے انہیں مناسب رقوم ادا کرے۔ جاپانی سرکاری خبر رساں اداروں نے ملکی وزارت صنعت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس عارضی ازالے کی مجموعی رقم پچاس بلین ین ہو گی۔

دوسری طرف ٹیپکو اور ٹوکیو حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے کہ ان کی طرف سے اس طرح کے مالی ادائیگیوں کا اعلان بہت دیر بعد کیا گیا ہے۔ ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر جانے کے بعد بھی متاثرہ افراد امدادی کیمپوں میں رہائش پذیر ہیں۔ اس حادثے کے بعد لوگوں کی ایک بڑی تعداد نہ صرف اپنے گھروں سے رخصتی پر مجبور ہوئی بلکہ ان کا روزگار بھی تباہ ہو گیا۔

ٹیپکو امدادی کام جاری رکھے ہوئے ہے

ٹیپکو امدادی کام جاری رکھے ہوئے ہے

150 امدادی سینٹرز میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد صورتحال ٹھیک ہونے کی منتظر ہے۔ جاپانی وزارت تجارت نے کہا ہے کہ حالات معمول پر آنے پر کچھ وقت لگے گا، اس لیے ضروری ہے کہ امدادی رقم فوری طور پر متاثرین تک پہنچ جائے۔ فوکو شیما کے گورنر Yuhei Sato نے کہا ہے کہ حادثے کے اثرات ابھی ختم نہیں ہوئے اور امداد کے سلسلے میں یہ ابھی ابتداء ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ حکومت اور ٹیپکو کے مابین رابطہ کاری کرتے ہوئے متاثرین کے لیے مزید امداد کو بھی یقینی بنائے گے۔

گزشتہ ماہ جاپان میں آنے والی قدرتی آفات کے نتیجے میں ہلاک شدگان کی تازہ ترین سرکاری تعداد 13 ہزار پانچ سو اڑتیس بتائی جا رہی ہے جبکہ 14 ہزار پانچ سو اناسی افراد لاپتہ ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق بے گھر ہونے والوں کی کل تعداد ڈیڑھ لاکھ بنتی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM