1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فوکو شیما جوہری حادثہ: معاوضے کی وصولی میں مشکل پر متاثرین کی برہمی

جاپان میں فوکوشیما کے جوہری حادثے کو سات ماہ بیت چکے ہیں۔ تاہم اس کے متاثرین ابھی تک ہرجانے کی رقوم وصول کرنے کے پیچیدہ طریقہ کار میں الجھے ہیں، جس پر وہ غم و غصے کا اظہار بھی کر رہے ہیں۔

default

جاپان میں زلزلے اور سونامی کے نتیجے میں فوکوشیما کا جوہری پلانٹ بھی متاثر ہوا تھا۔ اس کے آس پاس کے علاقوں سے تقریباﹰ 80 ہزار افراد اپنے گھر بار اور کاروبار چھوڑنے پر مجبور ہو گئے تھے۔

پلانٹ کی منتظم ٹوکیو الیکٹرک پاور کمپنی (ٹیپکو) نے بعض متاثرین کو عارضی ادائیگیاں تو کی ہیں، تاہم ہرجانے کی باقاعدہ درخواستیں قبول کرنے کا سلسلہ ابھی گزشتہ ماہ ہی شروع ہوا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق معاوضے کی رقوم وصول کرنے کا طریقہ کار انتہائی پیچیدہ ہے۔ اس کے لیے سب سے پہلے تو ایک سو ساٹھ صفحات پر مبنی ہدایت نامے کا مطالعہ کرنا ضروری ہے، جس کے بعد ساٹھ صفحات کا درخواست فارم پُر کرنا ہوتا ہے۔ یہی نہیں اس کے ساتھ متعلقہ رسیدیں بھی منسلک کرنی ہوتی ہیں۔

روئٹرز کے مطابق اسی وجہ سے ایک تاثر یہ پایا جا رہا ہے کہ ٹیپکو انصاف سے کام نہیں لے رہی۔ حکام پر عوام کا اعتماد بھی ناقص ہے۔ ٹیپکو پر پہلے ہی پلانٹ کی حفاظت کے لیے ضروری اقدامات کرنے میں کوتاہی کا الزام ہے۔

دوسری جانب معاوضے کی وصولی کے لیے ہدایت نامے کی اس شق پر بھی کافی شور برپا ہوا، جس کے تحت متاثرین کو اس بات سے اتفاق کرنا تھا کہ وہ معاوضے کی رقم کو چیلنج نہیں کریں گے۔ تاہم حکومتی مداخلت سے کمپنی نے یہ شق ہٹانے کا وعدہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی ہدایت نامے کو سادہ بناتے ہوئے، چار صفحات تک محدود کیا گیا۔

بعدازاں کمپنی نے متاثرین کو اس طریقہ کار میں مدد دینے کے لیے فوکوشیما کے علاقے میں ایک ہزار ملازمین بھی تعینات کیے۔

Fukushima Japan Erdbeben

فوکو شیما حادثے کے نتیجے میں اسّی ہزار افراد متاثر ہوئے

ٹیپکو کے ترجمان Naoyuki Matsumoto کا کہنا ہے: ’’کوئی بات سمجھنے میں مشکل ہو سکتی ہے۔ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ ہمارے ملازمین بھی کسی نکتے کو مکمل طور پر نہ سمجھ پائیں۔ لیکن پھر بھی ہم جہاں تک ممکن ہوں وضاحت کریں گے۔ ‘‘

معاوضے کی اسکیم کی نگرانی کرنے والے ایک حکومتی پینل کے اندازوں کے مطابق آئندہ برس مارچ میں ختم ہونے والی مالی سال تک یہ رقوم ساڑھے چھیالیس ارب ڈالر کو پہنچ سکتی ہیں۔

تاہم ابھی تک 80 ہزار میں سے محض 7 ہزار ایک سو متاثرین نے ہی معاوضے کے لیے درخواستیں جمع کرائی ہیں۔ متاثرین کمپنی کے خلاف عدالتوں میں بھی جا سکتے ہیں۔ تاہم اس علاقے میں یہ رجحان کم ہی دکھائی دیتا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ابھی تک دس متاثرین نے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل / روئٹرز

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM