1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

فوکو شيما کے گرد انخلائی زون کتنا بڑا ہونا چاہيے؟

جاپانی حکومت نے فوکو شيما کے ايٹمی بجلی گھر سے خارج ہونے والی تابکاری سے شہريوں کو بچانے کے لئےگردو پيش کے 20 کلوميٹر علاقے کو خالی کردينے کی ہدايات جاری کی ہيں۔ ليکن گرين پيس نے حفاظتی زون ميں اضافے کا مطالبہ کيا ہے۔

default

گرين پيس کے ماہرين کی ٹيم

 تحفظ ماحول کی تنظيم گرين پيس کے ماہرين نے اس حفاظتی زون کو وسيع کرنے کا مطالبہ کيا ہے۔ کيونکہ انہوں نے 40 کلوميٹر دور تک کے مقامات پر خاصی زيادہ تابکاری کا سراغ لگايا ہے۔ حفاظتی زون سے آبادی کے انخلاء سے کتنی حفاظت ہو سکتی ہے اور اسے کتنا بڑا ہونا چاہيے؟

جب مسئلہ آبادی کو نظر نہ آنے والی ايٹمی تابکاری سے بچانے کا ہو تو پھر سوال  یہ ہے کہ ایسا زون يا علاقہ کتنا بڑا ہونا چاہيے جہاں سے آبادی کو جوہری تابکاری کے خطرات سے بچانے کے ليے نکال لينا لازمی ہونا چاہيے؟ 20 کلوميٹر،30 يا 40 کلوميٹر یا پھراس سے بھی زيادہ؟ ميونخ ميں تابکار شعاعوں کی طب کے ہيلم ہولٹس سينٹر کے سربراہ پروفيسر کرسٹوف ہيوئشن اس حوالے سے کہتے ہیں:

      ’’ جوہری تابکاری ميں فاصلے کے ساتھ ساتھ اصولی طور پر رقبے کی نسبت سے کمی ہوتی ہے۔ ليکن تابکاری ہوا اور موسم کی مناسبت سے بھی پھيلتی ہے۔ اس لئے ارد گرد ميں 20 کلوميٹر کے دائرے ميں آبادی کا انخلاء مناسب تو ہے ليکن اسے کافی يا ناکافی نہيں کہا جاسکتا۔ موزوں يہ ہے کہ تابکاری کی پيمائش کرکے ديکھا جائے کہ وہ کہاں تک پھيل چکی ہے اور اسی سمت ميں انخلاء بھی ہو۔‘‘

Japan Fukushima Rauch Atomreaktor

فوکو شيما پلانٹ سے بلند ہوتا ہوا دھواں

گرين پيس بھی عين يہی مطالبہ کررہی ہے کيونکہ اس کی ايک ٹيم نے فوکو شيما ايٹمی بجلی گھر سے 40 کلو ميٹر دور واقع شہر ليتات ميں تابکاری کی بہت بڑی مقدار کی پيمائش کی ہے۔ گرين پيس کے ايٹمی توانائی کے ماہر جان بيراناک کا اس  حوالے سے کہنا ہے:

              ’’ ہم نے پتہ چلايا ہے، اور حکومت نے اس کی تصديق بھی کردی ہے کہ موجودہ انخلائی زون سے بہت زيادہ فاصلے پر موجود ديہاتوں اور شہروں ميں بھی تابکاری کی خطرناک حد تک زيادہ مقدار پائی گئی ہے۔ اس لیے يہ واقعی ضروری ہے کہ لوگوں کو اور زيادہ وسيع علاقے سے باہر نکالا جائے۔ اس سلسلے ميں حاملہ عورتوں اور بچوں کو ترجيح دينے کی ضرورت ہے کيونکہ ان کے لئے جوہری تابکاری اور بھی زيادہ خطرناک ہوتی ہے۔‘‘

بيراناک نے کہا کہ فی الحال متاثرہ علاقوں کی غذائی اشياء کو استعمال نہيں کيا جانا چاہيے:

                                                                       انہوں نے اس کی شکايت کی کہ جاپانی حکام علاقے کے لوگوں کو کافی اطلاعات فراہم نہيں کررہے ہيں اور اس حوالے سے حفاظتی اقدامات یا کسی قسم کی تنبيہہ بھی جاری نہيں کی جارہی۔

’’ مسئلہ يہ ہے کہ جاپانی حکام علاقے کے عوام کو ضروری اور کافی اطلاعات فراہم نہيں کررہے ہيں۔مثال کے طور پر ہم نے شہر کے مير سے بات کی۔ مير کو کوئی اعدادو شمار فراہم نہيں کئے گئے ہيں۔انہيں حکام کی طرف سے کسی قسم کی وارننگ نہيں ملی ہے، کچھ بھی نہيں۔ اس لئے ہم حکام سے مطالبہ کرتے ہيں کہ وہ ضروری اقدامات کريں۔‘‘

رپورٹ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس