1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

فوکوشیما: ارد گرد کا علاقہ ابھی تک تابکاری سے پاک نہ ہو سکا

فوکوشیما کے جوہری حادثے سے متاثر ہونے والوں کو امید تھی کہ جلد ہی یہ علاقہ تابکاری کے اثرات سے پاک کر دیا جائے گا اور وہ اپنے گھروں کو لوٹ سکیں گے۔ تاہم اب ان کی واپسی اگلے سال ہی ممکن ہو سکے گی۔

default

جاپان میں رواں سال مارچ میں  سونامی لہروں نے زبردست تباہی مچائی۔ جانی نقصان کے ساتھ ساتھ جاپان میں فوکوشیما کا جوہری پلانٹ بری طرح متاثر ہوا۔ تابکاری مادے کے اخراج کے ساتھ ہی ارد گرد کے ایک بڑے علاقے کو خالی کرا لیا گیا تھا۔ جوہری حادثے کے بعد فوکوشیما سے بے دخل کیے جانے والے افراد کے لیے یقیناً یہ کوئی اچھی خبر نہیں ہے۔ یہ افراد اپنے گھروں کو واپس لوٹنے کے حوالے سے بہت ہی پر امید تھے۔ گیارہ مارچ کے حادثے کے بعد ہنگامی پناہ گاہوں میں زندگی بسر کرنے والے افراد کو سماجی کارکن نہ صرف تحفے تحائف دیتے رہتے ہیں بلکہ کبھی کبھار ان کے لیے گیت بھی گنگنائے جاتے ہیں۔

گزشتہ ہفتے فوکوشیما کے ان علاقوں میں برف باری بھی ہوئی، جہاں پر ہنگامی پناہ گاہیں بنائی گئی ہیں۔ یہ گھر شدید سردی کے لیے موزوں نہیں ہیں اور نہ ہی بے دخل کیے جانے والوں کے پاس موسم کی مناسبت سے گرم کپڑے ہیں۔ فوکوشیما کی ایک رہائشی ساساکی شکایت کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ مناسب انتظامات کا شدید فقدان ہے۔ ان کے گھر کے باہر ہر جانب برف پڑی ہوئی ہے اور بچے دن بھر اس میں کھیلتے ہیں۔ ساساکی کو اپنے بیٹے کی فکر لاحق ہے۔ وہ کہتی ہیں ایسا نہ ہو کہ کہیں برف میں بھی تابکاری کے اثرات ہوں۔ تاہم نوسالہ یوٹو پرواہ کیے بغیر کھیل کود میں مصروف ہے۔

ان کا گاؤں فوکوشیما کے ایٹمی ری ایکٹر سے صرف نو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ وہاں دو ہفتے قبل ہی سماجی شعبے کے افراد اور فوج نے تابکاری سے آلودہ مٹی کو ہٹانے کا کام شروع کیا ہے۔ یہ لوگ مشینوں کی مدد کے بغیر یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ گزشتہ ہفتے ہی ٹوکیو میں وزارت ماحولیات نے اعلان کیا تھا کہ متاثرہ علاقے کی زمین کو تابکاری سے سے پاک کرنے کا کام اگلے برس مارچ کے اختتام تک ہی شروع کیا جا سکتا ہے۔ اس کام کی راہ میں صرف شدید موسمی حالات ہی رکاوٹ نہیں ڈال رہے بلکہ مقامی حکام اور زمین کے مالکان سے اجازت حاصل کرنا بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ لیکن اس بات کا کسی کو بھی نہیں علم کہ تابکاری کے اثرات والی ٹنوں مٹی کہاں پھینکی جائے گی۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت: حماد کیانی

DW.COM