1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فوکس ویگن کے ہر امریکی مالک کے لیے پانچ ہزار ڈالر زر تلافی

جرمن کار ساز ادارہ فوکس ویگن زر تلافی کے طور پر امریکا میں ہر اس شخص کو پانچ ہزار ڈالر دینے کے لیے تیار ہو گیا ہے، جس کے پاس اس کمپنی کی متاثرہ ڈیزل گاڑی ہے۔ اس کمپنی کو آلودگی کی مقدار چھپانے کے اسکینڈل کا سامنا ہے۔

جرمن اخبار ’دی ویلٹ‘ کے مطابق فوکس ویگن (وی ڈبلیو) نے امریکیوں کو پانچ ہزار ڈالر ادا کرنے کی حامی اس وجہ سے بھری ہے کہ وہ کسی بھی بڑے عدالتی مقدمے سے بچنا چاہتی ہے۔

حال ہی میں جرمن کار ساز ادارے فوکس ویگن کی تاریخ کا سب سے بڑا اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا، جس کے مطابق فوکس ویگن کے ساتھ ساتھ کئی دیگر کار ساز ادارے ایسی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے تھے، جن کی مدد سے کاروں سے خارج ہونے والی ضرر رساں گیسوں کی اصل مقدار کو کم دکھایا جا سکتا ہے۔

اس اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد فوکس ویگن کمپنی نے بھی اعتراف کر لیا تھا کہ اس نے اپنی گیارہ ملین کاروں میں Dfeat Device نامی ایک سافٹ ویئر نصب کیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ اس سافٹ ویئر کی مدد سے ٹیسٹ کے وقت کاروں سے خارج ہونے والی آلودگی کی مقدار کو چھپایا جاتا تھا۔

USA VW Passat

فوکس ویگن کے ساتھ ساتھ کئی دیگر کار ساز ادارے ایسی ٹیکنالوجی استعمال کر رہے تھے، جن کی مدد سے کاروں سے خارج ہونے والی ضرر رساں گیسوں کی اصل مقدار کو کم دکھایا جا سکتا ہے

فوکس ویگن کے خلاف مقدمہ امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان فرانسیسکو کی وفاقی عدالت میں پیش کیا گیا تھا اور باقاعدہ سماعت سے پہلے عدالت کے جج چارلس بریئر نے اس کپمنی کو اکیس اپریل تک کی مہلت دی تھی کہ وہ کوئی ایسا منصوبہ پیش کرے، جس کے تحت ان چھ لاکھ گاڑیوں سے متعلق فیصلہ کیا جا سکے، جن کے انجنوں میں تبدیلی کرتے ہوئے گیسوں کے خراج سے متعلق فراڈ کیا گیا تھا۔

جرمن اخبار کے مطابق امریکی حکام کے ساتھ طے پانے والے اس معاہدے کے تحت فوکس ویگن کے تمام مسائل تو حل نہیں ہوں گے لیکن اسے ساٹھ لاکھ گاڑیوں کو دوبارہ ورکشاپوں پر لانے اور ان میں تبدیلی کرنے کی اجازت مل جائے گی اور یہ کہ ایسی ہر کار کے متاثرہ مالک کو پانچ ہزار ڈالر بھی ادا ہو جائیں گے۔

دوسری جانب اگر مدعیان اس معاہدے سے اتفاق نہیں کرتے تو اس مقدمے کی باقاعدہ سماعت کا آغاز ہو جائے گا۔

جرمن اخبار نے مذاکرات میں شریک ایک عہدیدار کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ امریکی حکومت کے ساتھ ہونے والا یہ معاہدہ ایک ’’مفاہمتی یادداشت‘‘ سے زیادہ نہیں ہے اور آئندہ مہینوں میں اس کی تفصیلات پر مزید کام کرنا پڑے گا۔

فوکس ویگن کے منظر عام پر آنے والے اسکینڈل کی تفصیلات کے مطابق مجموعی طور پر ایسی گیارہ ملین ڈیزل گاڑیاں ہیں، جن کے انجنوں میں ہیر پھیر سے کام لیا گیا تھا اور پھر انہیں دنیا بھر کی مارکیٹوں میں فروخت کر دیا گیا تھا۔

سرمایہ کاروں نے ایک بڑے پیمانے پر عدالتی کارروائی سے بچنے کے لئے فوکس ویگن کی اس کوشش کا خیر مقدم کیا ہے اور فرینکفرٹ مارکیٹ میں اس کے حصص 6.61 فیصد اضافہ ہوا ہے۔