1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’فوکس ویگن اسکینڈل‘، ہائے اس زود پشیمان کا پشیمان ہونا

فوکس ویگن نے تسلیم کر لیا ہے کہ انہوں نے ضرر رساں گیسوں کے اخراج کی مقدار کم دکھانے کے لیے اپنی ڈیزل گاڑیوں میں ایک سافٹ ویئر نصب کیا تھا۔ ادارے کے سی ای او نے صارفین سے اس غلطی پر معافی بھی مانگ لی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سافٹ ویئر اسکینڈل کے منظر عام پر آنے کے بعد سے فوکس ویگن کو اب تک 24 ارب یورو کا نقصان ہو چکا ہے۔ فوکس ویگن کے اعدادو وشمار کے مطابق دنیا بھر میں کوئی گیارہ ملین ڈیزل گاڑیوں ایسی ہیں، جن میں ’امیشن چیٹنگ ڈیوائس‘ لگائی گئی ہے۔ تحفظ ماحول کا امریکی محکمہ تقریباً پونے پانچ لاکھ گاڑیوں میں اس سافٹ ویئر کی نشان دہی کر چکا ہے۔

فوکس ویگن کے سی ای او مارٹن ونٹرکورن نے اس دھوکا دہی پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس حوالے سے جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔ تاہم اس دوران انہوں نے مستعفی ہونے کا کوئی عندیہ نہیں دیا۔ ’’دنیا بھر میں لاکھوں افراد فوکس ویگن پر بھروسا کرتے ہیں۔ لوگوں کو ہماری گاڑیوں اور ٹیکنالوجی پر اعتماد ہے۔ میں بہت پشیمان ہوں کہ ہم نے اپنے صارفین کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی۔ میں اس خطا پر تمام صارفین ، حکام اور عوام سے معافی چاہتا ہوں‘‘۔

Deutschland Volkswagen Dieselmotor

فوکس ویگن کے اعدادو وشمار کے مطابق دنیا بھر میں کوئی گیارہ ملین ڈیزل گاڑیوں ایسی ہیں، جن میں ’امیشن چیٹنگ ڈیوائس‘ لگائی گئی ہے

فوکس ویگن نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ یہ سافٹ ویئر کس نے اور کس کے کہنے پر نصب کیا گیا۔ ونٹرکورن کے مطابق ’’اس وقت میرے پاس تمام سوالوں کے جوابات نہیں ہیں، لیکن ہم اس معاملے کی تہہ تک پہنچنے کی کوششوں میں ہیں۔‘‘

اس دوران فوکس ویگن اس نقصان کا ازالہ کرنے اور اپنے صارفین کا اعتماد دوبارہ سے حاصل کرنے کے لیے ابتدائی طور پر ساڑھے چھ ارب یورو کا اعلان کیا ہے۔ ساتھ ہی اس ادارے نے کہا ہے کہ اس سال کا منافع کے حوالے سے لگائے جانے والے اندازے بھی تبدیل ہو سکتے ہیں۔ دوسری جانب منگل کے روز فوکس ویگن کے حصص میں بیس فیصد کی کمی بھی واقع ہوئی ہے۔

ادکارہ زینڈی ہارٹج کے بقول ’’میں نے یہ سوچ کر گاڑی خریدی کہ میں کچھ غلط نہیں بلکہ کچھ اچھا کر رہی ہوں‘‘۔ ان کے پاس فوکس ویگن کی جیٹا اسپورٹس گاڑی ہے، جو انہوں نے 2013ء میں خریدی تھی۔ تاہم اب انہوں نے فوکس ویگن کی کوئی بھی کار نہ خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔

تحفظ ماحول کے امریکی ادارے ’ ای پی اے‘ نے کہا ہے کہ فوکس ویگن کو ہر گاڑی پر 37,500 ڈالر تک کا جرمانہ کیا جا سکتا ہے جبکہ اگر کوئی اس معاملے میں ذاتی طور پر ملوث پایا گیا تو اسے ہر گاڑی کے عوض 3,750 ڈالر تک دینا پڑ سکتے ہیں۔