1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فون ہیکنگ اسکینڈل کا مرکزی کردار ربیکا بروکس مستعفی

برطانیہ میں منظر عام پر آنے والے فون ہیکنگ اسکینڈل کے مرکزی کردار ربیکا بروکس نے بالآخر نیوز انٹرنیشنل کی سربراہی سے استعفی دے دیا ہے۔

ربیکا بروکس

ربیکا بروکس

نیوز انٹرنیشنل دراصل روپرٹ مرڈوخ کے میڈیا گروپ نیوز کارپوریشن کی برطانوی شاخ ہے۔ ربیکا بروکس حال میں بند کیے جانے والے اخبار نیوز آف دی ورلڈ کی سال 2000 سے 2003 تک چیف ایڈیٹر تھیں۔ انہی کی سربراہی میں اس ٹیبلائڈ نے خبروں کے حصول کے لیے فون ہیکنگ کے سلسلے کا آغاز کیا تھا۔

ربیکا بروکس نے اپنے استعفے میں فون ہیکنگ کے ذریعے لوگوں کی دل آزاری کا سبب بننے پر شرمندگی کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ہے: ’’کمپنی کی چیف ایگزیکٹیو ہونے کے ناطے میں خود کو فون ہیکنگ کے ذریعے لوگوں کو تکلیف پہنچانے کا ذمہ دار سمجھتی ہوں۔ اور جو کچھ ہوا میں اس پر نادم ہوں۔‘‘

برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون نے ربیکا براؤن کے استعفے کا خیرمقدم کیا ہے۔ کیمرون کے ترجمان کے مطابق :’’وزیراعظم سمجھتے ہیں کہ یہ درست فیصلہ ہے۔‘‘

امریکی ایف بی آئی نے بھی روپرٹ مرڈوک کے ادارے نیوز کارپوریشن کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے

امریکی ایف بی آئی نے بھی روپرٹ مرڈوک کے ادارے نیوز کارپوریشن کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے

ربیکا بروکس کی جگہ نیوز کارپوریشن کے اسکائی اٹالیا ٹیلی وژن چینل کے چیف ایگزیکٹیو ٹام موکریج Tom Mockridge نے اب نیوز انٹرنیشنل کے سربراہ کا عہدہ سنھبال لیا ہے۔

ادھر امریکی وفاقی پولیس ایف بی آئی نے بھی دنیا بھر میں کئی میڈیا اداروں کے آسٹریلوی مالک روپرٹ مرڈوک کے ادارے نیوز کارپوریشن کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ نیویارک میں ایف بی آئی کی ایک ترجمان نے اس امر کی تصدیق کی کہ نیوز کارپوریشن کی جانب سے امریکہ میں بھی ٹیلی فون ہیک کیے جانے کے بارے میں اطلاعات موجود ہیں اور اُن کی جانچ پڑتال کی جا رہی ہے۔

متعدد امریکی سینیٹرز نے عدالتی حکام پر ان رپورٹوں کی تحقیقات کے لیے زور دیا تھا کہ گیارہ ستمبر سن 2001ء کے دہشت پسندانہ حملوں میں مرنے والوں کے لواحقین کے ٹیلی فون بھی ہیک کیے گئے تھے۔ دریں اثناء 80 سالہ روپرٹ مرڈوک اور اُن کا بیٹا جیمز مرڈوک برطانوی پارلیمان کی ایک تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے راضی ہو گئے ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس