1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فون ہیکنگ اسکینڈل کا ذمہ دار نہیں، مرڈوک

روپرٹ مرڈوک نے کہا کہ انہیں فون ہیکنگ اسکینڈل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ان کے مطابق انہیں اس معاملے میں ’’گمراہ‘‘ کیا گیا تھا۔

default

روپرٹ مرڈوک اور ان کے بیٹے سماعت کے دوران

مرڈوک کا منگل کو برطانوی پارلیمنٹ میں سماعت کے آغاز پر کہنا تھا، ’’ میں صرف اتنا کہنا چاہوں گا کہ آج میری زندگی کا مشکل ترین دن ہے۔‘‘

نیوز کارپوریشن کے مالک روپرٹ مرڈوک کے بیٹے جیمز مرڈوک کاکہنا تھا، ’’میں بیان نہیں کر سکتا کہ میں اور میرے ساتھی کس قدر شرمندہ ہیں۔‘‘

دو گھنٹے تک جاری رہنے والی سماعت کے دوران ایک شخص نے مرڈوک کے چہرے پر جھاگ سے بھری ایک پلیٹ پھینکنے کی کوشش کی، جس کی وجہ سے کارروائی مختصر طور پر معطل کر دی گئی۔ سماعت کے دوران روپرٹ مرڈوک کے پیچھے بیٹھی ہوئی ان کی بیوی وینڈی ڈینگ نے جھاگ سے بھری پلیٹ پھینکنے والے کو تھپڑ رسید کیا، جبکہ حملہ آور کو فوری طور پر پولیس نے گرفتار کر لیا۔

NO FLASH London Anhörung Murdoch Attacke

مرڈوک کے پیچھے بیٹھی ہوئی ان کی بیوی وینڈی ڈینگ نے جھاگ سے بھری پلیٹ پھینکنے والے کو تھپڑ رسید کیا

ربیکا بروکس، جنہوں نے گزشتہ ہفتے نیوز کارپوریشن سے استعفی دے دیا تھا، سماعت کے لیے دیر سے پہنچیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اپنے کیے پر انتہائی شرمندہ ہیں۔ ربیکا بروکس حال ہی میں بند کیے جانے والے اخبار نیوز آف دی ورلڈ کی سال 2000 سے 2003 تک چیف ایڈیٹر تھیں۔ انہی کی سربراہی میں اس اخبار نے خبروں کے حصول کے لیے فون ہیکنگ کے سلسلے کا آغاز کیا تھا۔

لندن پولیس کے سربراہ Paul Stephenson اور انسداد دہشت گردی کے سربراہ John Yates سے بھی پوچھ گچھ کی گئی۔ یہ دونوں افراد بند ہو جانے والے اخبار نیوز آف دی ورلڈ کے ایک سابق ڈپٹی ایڈیٹر کے ساتھ رابطے رکھنے کے الزام میں مستعفی ہو گئے تھے۔ دوسری جانب یہ اسکینڈل برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے سیاسی کیریئر کے لیے بھی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ ڈیوڈ کیمرون کو روپرٹ مرڈوک کے ساتھ روابط کی بنا پر شدید سیاسی مشکلات کا سامنا ہے۔

نیوز آف دی ورلڈ پر فون ہیکنگ کا الزامات کے بعد نیوز آف دی ورلڈ کے نگران ادارے نیوزکارپوریشن کے سربراہ کو یہ تاریخی اخبار نہ صرف اچانک بند کرنا پڑا بلکہ ساتھ ہی ساتھ 12 بلین ڈالر کے اُس منصوبے سے بھی دستبردار ہونا پڑا، جس کے تحت نیوز کارپوریشن برطانیہ کا انتہائی منافع بخش پے ٹی وی آپریٹر بی اسکائی بی خریدنے جا رہی تھی۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM