1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فون ہیکنگ اسکینڈل، مرڈوک پر بڑھتا ہوا دباؤ

برطانوی حکومت اور اپوزیشن نے مشترکہ طور پر اعلان کیا ہےکہ نیوزکارپوریشن کے مالک روپرٹ مرڈوک نے اگر’بی اسکائی بی‘ نامی ٹی وی چینل کے تمام ترحقوق حاصل کرنے کی کوشش کی، تو اس کی شدید مخالفت کی جائے گی۔

default

برطانیہ میں ٹیلیفون ہیکنگ کے اسکینڈل کے حوالے سے روپرٹ مرڈوک پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ فون ہیکنگ اسکینڈل کے بعد روپرٹ مرڈوک کو اپنا اخبار ’نیوز آف دی ورلڈ‘ بند کرنا پڑا، جس کا آخری شمارہ گزشتہ اتوار شائع کیا گیا تھا۔

اب نیوز‍ کارپوریشن کے مالک مرڈوک پے ٹی وی ’بی سکائی بی‘ کے تمام تر حقوق خریدنا چاہتے ہیں، جبکہ برطانوی حکومت اور اپوزیشن نے مشترکہ طور پر ان سے اس بولی میں شرکت نہ کرنے کے لیے کہا ہے۔

اس متنازعہ سودے کے بارے میں اسی ہفتے پارلیمان میں رائے شماری ہو رہی ہے۔ نیوز آف دی ورلڈ کے رپورٹروں پر وائس میلز اور ٹیلی فون کالز ہیک کرنے کے علاوہ پولیس کو رشوت دینے کا بھی الزام ہے۔ سابق برطانوی وزیراعظم گورڈن براؤن کا نام بھی ان افراد کی فہرست مں شامل ہے، جن کے ٹیلیفون ہیک کیے گئے ہیں۔

NO FLASH News of the World

نیوز انٹرنیشنل نے گورڈن براؤن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط قرار دیا ہے

سابق برطانوی وزیر اعظم گورڈن براؤن کا برطانوی اخبار گارجئن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اخبار کی طرف سے ان کے بینک اور ٹیکسوں کے کاغذات تک رسائی حاصل کرنا ایک مجرمانہ فعل ہے۔ اسی طرح ان کا کہنا تھا کہ ان کے بیٹے کی بیماری سے متعلق خبریں شائع ہونے سے انہیں انتہائی دکھ ہوا، ’’میں نہیں جانتا کہ یہ سب کچھ کیسے ہوا لیکن میں یہ ضرور جانتا ہوں کہ معلومات کے حصول کے لیے ’نیوز انٹرنیشنل‘ کے لیے کام کرنے والوں نے فون ہیک کیے ہیں۔ میری پریشانی کی وجہ یہ بات بھی ہے کہ لوگ ان کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں اور یہ سب مجرم ہیں۔‘‘

دوسری جانب اس اخبار نے گورڈن براؤن کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں غلط قرار دیا ہے۔ روپرٹ مرڈوک کو ’بی سکائی بی‘ کے حقوق حاصل کرنے سے روکنے کے لیے برطانوی پارلیمان میں ایک قرار داد منظور کی جائے گی۔ اس قرار داد کا مقصد میڈیا مغل مرڈوک پر دباؤ بڑھانا ہے۔

حالیہ ٹیلی فون ہیکنگ اسکینڈل سے نہ صرف اخبار ’نیوز آف دی ورلڈ‘ بلکہ اس پورے میڈیا گروپ کو نقصان پہنچا ہے۔ قبل ازیں برطانیہ میں اپوزیشن جماعت لیبر پارٹی کے سربراہ ایڈ ملی بینڈ کا کہنا تھا کہ وہ نہیں چاہتے کہ اخبار بند کیے جائیں لیکن مجرموں کو انصاف کے کٹہرے تک لایا جائے۔ اس واقعے کے ذمہ دار وہ ہیں، جو اس اخبار کو چلاتے ہیں۔ اور ابھی تک ان کے خلاف کچھ بھی نہیں کیا گیا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: عابد حسین

DW.COM