فولکس ویگن تنازعہ: ممکنہ دھوکا دہی کی تحقیقات پھیلتی ہوئیں | حالات حاضرہ | DW | 22.09.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فولکس ویگن تنازعہ: ممکنہ دھوکا دہی کی تحقیقات پھیلتی ہوئیں

جرمن کار ساز ادارے فولکس ویگن کی اس ممکنہ دھوکا دہی کے بارے میں تحقیقات کا دائرہ عالمی سطح پر پھیلتا جا رہا ہے، جس میں اس ادارے نے امریکا میں آلودگی کی جانچ کو جھانسا دینے کے لیے موٹر گاڑی میں ایک نظام نصب کر رکھا تھا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق جرمن کار ساز ادارے نے امریکا میں بیجی گئی ڈیزل کاروں میں ایک سافٹ ویئر نصب کر رکھا تھا، جس کے تحت یہ آلودگی کے حوالے سے جانچ کے دوران کار سے ضرر رساں گیسوں کی اصل مقدار سے کم دکھاتا تھا۔

امریکا کے محکمہء انصاف نے اس سلسلے میں فوجداری تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جب کہ اب فرانس نے بھی مطالبہ کیا ہے کہ اس سلسلے میں یورپ بھر میں تفتیش کی جائے کہ اس ادارے نے دیگر گاڑیوں میں بھی ایسا کوئی نظام تو نصب نہیں کر رکھا۔ اس کے علاوہ اسی سلسلے میں جنوبی کوریا نے بھی فولکس ویگن کے عہدیداروں کو طلب کیا ہے۔

سیلز کے اعتبار سے دنیا کے سب سے بڑے کار ساز ادارے فولکس ویگن کا کہنا ہے کہ اس نے امریکا میں اس تفتیش کے دوران اپنی تمام تر ڈیزل گاڑیوں کی فروخت روک دی ہے۔ اس تفتیش کے بعد اس ادارے کو صرف امریکا میں 18 بلین ڈالر سے زائد کا جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔

Deutschland VW Symbolbild zum Abgasen-Skandal

اس ادارے نے ایک نظام نصب کر رکھا تھا جو اصل کے مقابلے میں کم آلودگی دکھاتا تھا

مالیاتی منڈیوں میں بھی اس اداروں کو سخت مشکلات کا سامنا ہے۔ پیر کے روز اس کار ساز ادارے کے حصص کی قیمتوں میں 18.19 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی اور یہ 133 یورو کی سطح پر آگئے۔ جرمن بازارِ حصص میں ہونے والی اس کی کے باعث ادارے کی مارکیٹ قدر میں 15 بلین یورو کا گھاٹا ہوا۔

منگل کے روز فرانسیسی وزیرخارجہ لاراں فابیوس نے مطالبہ کیا کہ اس سلسلے میں یورپ بھر میں تحقیقات کی جانا چاہیں اور دیگر کار ساز اداروں کی گاڑیوں کی جانچ بھی ہونا چاہیے، تاکہ یورپی عوام کو یقینی دلایا جا سکے کہ ان کے ساتھ دھوکا دہی نہیں ہو رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ لوگوں کو آلودگی کے زہر سے بچانا انتہائی اہم ہے۔

ادھر جنوبی کوریا نے بھی ملک میں فولکس ویگن کے نمائندوں کو طلب کر کے کہا ہے کہ وہ اگلے ماہ سے اس ادارے کی گاڑیوں کی جانچ کا عمل شروع کر دیں گے۔