1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

فوری علاج درد کو دائمی ہونے سے روک سکتا ہے

جرمن ایسوسی ایشن فار پین میڈیسن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر درد کا علاج اُسی وقت کیا جانا چاہیے جب وہ محسوس ہونا شروع ہو ورنہ وہ زندگی بھر کا روگ بن سکتا ہے۔

سوجی ہوئی انگلی کا درد، چکنی غذا کے استعمال کے سبب پیٹ کا درد ہو یا دھوپ میں دیر تک رہنے سے ہونے والا سردرد، یہ تمام علامتیں ہیں اس بات کی ہیں کہ جسم کا نظام ناقص ہے۔ اس کی تشخیص ہوتے ہوتے درد غائب ہو جاتا ہے تاہم کچھ لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کا درد علاج کے بعد بھی موجود ہے۔ یہ وہمی درد دائمی ہو سکتا ہے اور اس کے شکار بہت سے افراد کے لیے یہ عمر بھر کا روگ بن جاتا ہے۔

جرمن ماہرین کا کہنا ہے کہ درد کا فوری طور پر علاج کروانا اور اس کا تدارک اس لیے بھی ضروری ہے کہ اگر یہ زیادہ عرصے تک مریض کو پریشان کرے تو اس کے شکار افراد نفسیاتی طور پر بھی اس بات کا یقین نہیں کر پا رہے ہوتے ہیں کہ ان کا درد حقیقی نہیں بلکہ وہمی ہے۔

جرمن ایسوسی ایشن فار پین میڈیسن DGS کے صدر پروفیسر گیرہارڈ میولر شوئفے کہتے ہیں،’’ ہم دائمی درد کی بات اُس وقت کرتے ہیں جب یہ درد اُس مرحلے سے آگے نکل جاتا ہے جہاں ہم یہ توقع کر رہے ہوتے ہیں کے ہمیں اس درد کی وجہ معلوم ہو جائے گی اور اُسے دور کیا جا چُکے گا‘‘۔

Symbolbild Kopfschmerzen Migräne

وہمی درد کا کوئی علاج نہیں ہوتا

اس میکنیزم یا طریقہ کار کا سائنسی طور پر جائزہ لیا گیا ہے اور اسے اب بڑی حد سمجھا جا چُکا ہے۔ ’’ایسا درد جو بار بار محسوس کیا جائے ’ نروس ٹرانسمٹ سگنل‘ یا اعصابی ترسیلی سگنل‘ کو بدلنے کا موجب بن سکتا ہے۔ ایسے میں چھوٹی سے چھوٹی تکلیف یا پریشان کرنے والا اعصابی رد عمل ظاہر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔‘‘۔ یہ کہنا ہے جرمن ماہر گیرہارڈ میولر شوئفے کا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ درد جب اعصابی یا وہمی ہو جائے تو درد کے شکار کسی دائمی مریض کو اگر بہت ہلکے سا بھی چھوا جائے تو اُسے شدید درد محسوس ہوتا ہے۔

پروفیسر شوئفے کے بقول،’’ اسٹریس یا ذہنی دباؤ بھی اس قسم کے درد کے پیدا ہونے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ یہ آپ کے اعصابی نظام میں دماغ کے فلٹرنگ فنکشن کو بگاڑ دیتا ہے۔ اس حالت میں آپ غیر پختہ سگنلز بھی حاصل کرنا شروع کر دیتے ہیں‘‘۔ اس کیفیت میں مریض مسلسل مختلف ڈاکٹروں اور اسپیشلسٹوں کا چکر لگاتے لگاتے تنگ آ جاتے ہیں۔

پروفیسر شوئفے کا اس بارے میں کہنا ہے،’’ سب سے اہم بات یہ ہے کہ درد محسوس ہوتے ہی اُسے جتنی جلد ہو سکے دور کرنے کی کوشش کی جانے چاہیے۔ یہی ایک طریقہ ہے کسی ایسے درد سے بچنے کا جوابتدائی طور پر خود بخود ہی ذہن کو سگنل دینے لگتا ہے اور آخر کار کہنہ یا دائمی درد کی شکل اختبار کر لیتا ہے۔‘‘