فوری ایکشن نہ لیا گیا تو غزہ رہنے کے قابل نہیں رہے گا، اقوام متحدہ | حالات حاضرہ | DW | 28.08.2012
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فوری ایکشن نہ لیا گیا تو غزہ رہنے کے قابل نہیں رہے گا، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کی ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر غزہ میں صاف پانی کی فراہمی،تعلیم، بنیادی صحت اور توانائی کے شعبوں میں بہتری کے لیے فوری طور پر اقدامات نہیں کیے جاتے تو یہ علاقہ 2020ء تک رہنے کے قابل نہیں رہے گا۔

اقوام متحدہ نے فلسطینی علاقے غزہ پٹی کے بارے میں اپنی تفصیلی رپورٹ پیر کو جاری کی۔اس رپورٹ کی تیاری میں اقوام متحدہ کے متعدد ذیلی اداروں نے معاونت فراہم کی ہے۔ اس رپورٹ کے اجراء کے موقع پر عالمی ادارے کے انسانی امور کے کوآرڈینیٹر میکسویل گیلارڈ نے صحافیوں کو بتایا: ’’ اگر غزہ پٹی کو 2020ء تک انسانوں کے لیے رہنے کے قابل بنانا ہے تو فوری طور پر ایکشن لینے کی ضرورت ہے۔ وہاں زندگی اس وقت بھی انتہائی مشکل ہے۔‘‘

رپورٹ کے مطابق آئندہ آٹھ برسوں کے دوران غزہ پٹی کی آبادی میں پانچ لاکھ کا اضافہ ہو گا۔ اسرائیل اور مصر کی طرف سے ناکہ بندی کے شکار اس علاقے میں اس وقت 1.6 ملین نفوس آباد ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ غزہ ایک ایسا علاقہ ہے، جہاں نوجوان آبادی کا تناسب دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ وہاں 51 فیصد آبادی اٹھارہ برس یا اس سے بھی کم عمر کی ہے۔

غزہ پٹی 2007ء سے اسلامی تنظیم حماس کے زیر انتظام ہے۔ حماس اسرائیل کے ساتھ مستقل امن کی خواہاں نہیں ہے اور وہاں سے اسرائیل پر راکٹ بھی فائر کیے جاتے ہیں۔ جنوری 2009ء میں اسرائیل اور غزہ کے مابین تین ہفتوں کی ایک جنگ بھی ہو چکی ہے۔ اگرچہ غزہ کی ناکہ بندی ختم کرنے کے لیے اسرائیل پر عالمی دباؤ میں اضافہ ہوا ہے تاہم اسرائیل کے بقول غزہ تک اسلحے کی اسمگلنگ کو روکنے کے لیے یہ ناکہ بندی ناگزیر ہے۔

Palästina Kinder Gaslampe Gas Energie

غزہ کی 80 فیصد آبادی امداد پر گزارا کرتی ہے

غزہ پٹی کے لوگ اقوام متحدہ اور دیگر امدادی اداروں کی طرف سے فراہم کردہ امداد کے علاوہ سرنگوں کے ذریعے کی جانے والی اسمگلنگ سے گزر بسر کرتے ہیں۔اطلاعات کے مطابق مصر اور غزہ کے مابین ان سرنگوں سے تعمیراتی مواد، خوراک، الیکٹرک آلات اور گاڑیاں اسمگل کی جاتی ہیں۔ تاہم مبصرین کے بقول یہ کوئی دیر پا حل نہیں ہے۔

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کے آپریشنز کے ڈائریکٹر رابرٹ ٹرنر کے بقول 2020ء تک غزہ پٹی میں چار سو مزید اسکول، ہسپتالوں کےلیے مزید آٹھ سو بستر اور ایک ہزار مزید ڈاکٹروں کی ضرورت ہو گی۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق غزہ کی 80 فیصد آبادی امداد پر گزارا کرتی ہے۔ گیلارڈنے عالمی امدادی اداروں سے اپیل کی ہے کہ اس فلسطینی علاقے کی صورتحال بہتر بنانے کے لیے وہ اپنی فنڈنگ میں اضافہ کریں۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یونیسف سے وابستہ اعلیٰ خاتون اہلکار ژاں گؤف کے بقول غزہ پٹی کا سب سےبڑا مسئلہ پینے کا صاف پانی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ پانچ برس کے دوران اس علاقے میں پانی کی ضرورت میں ساٹھ فیصد کا اضافہ ہو جائے گا جبکہ وہاں پانی کے دستیاب وسائل کو بچانے کے لیے فوری ایکشن کی ابھی سے ضرورت ہے۔ میکسویل گیلارڈ نے کہا ہے کہ غزہ کی موجودہ صورتحال میں بہتری کے لیے علاقے میں امن اور سلامتی کی صورتحال میں بہتری انتہائی ضروری ہے۔

ab/ng (AFP)