1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فوج کی کمان باجوہ کے حوالے، راحیل شریف کی بھارت کو تنبیہ

جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستانی فوج کے نئے سربراہ کے طور پر اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔ قیادت کی تبدیلی کے لیے ایک خصوصی تقریب راولپنڈی میں قائم پاکستانی فوج کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہوئی۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اپنی ذمہ داریوں سے سبکدوش ہونے والے اور پاکستان میں انتہائی مقبول جنرل راحیل شریف نے چارج چھوڑنے سے قبل اس خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بھارت کو متنبہ کیا کہ کشمیر میں حالیہ کشیدگی کے حوالے سے پاکستان کی ’برداشت‘ کو کمزوری نہ سمجھا جائے۔
راحیل شریف کا اپنے خطاب میں کہنا تھا، ’’بدقسمتی سے حالیہ مہینوں کے دوران مقبوضہ (بھارت کے زیر انتظام) کشمیر میں بڑھتی ہوئی ریاستی دہشت گردی اور بھارت کے جارحیت پسندانہ اقدامات نے علاقے کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’میں یہ بات بھارت پر واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ ہماری برداشت کی پالیسی کو کمزوری سمجھنا اس کے لیے خطرناک ہو گا۔‘‘


جنرل راحیل شریف کے مطابق، ’’یہ حقیقت ہے کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اور ترقی کشمیر کے مسئلے کو حل کیے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اس کے لیے عالمی برادری کو اس پر خاص توجہ دینا چاہیے۔‘‘
پاکستان میں فوجی قیادت کی اس تبدیلی کے دن ہی بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں ایک فوجی اڈے پر عسکریت پسندوں نے حملہ کیا ہے، جس کے نتیجے میں دو بھارتی فوجی افسران ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس بارے میں مزید تفصیلات یہاں پڑھیے۔
بھارتی فوجی اڈے پر حملہ، دو فوجی ہلاک
پاکستانی حکومت کی طرف سے ملک کے نئے فوجی سربراہ کے طور پر جنرل قمر جاوید باجوہ کے نام کا اعلان ہفتہ 26 نومبر کو کیا گیا تھا۔ جنرل راحیل شریف تین برس تک پاکستانی فوج کے سربراہ رہے اور اس دوران دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی وجہ سے انہیں ملک بھر میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔ اسی باعث بہت سے پاکستانیوں کی طرف سے حکومت سے مطالبات بھی کیے گئے کہ ان کو اس عہدے پر مزید برقرار رکھا جائے۔ تاہم راحیل شریف کی طرف سے کئی ماہ قبل ہی واضح کر دیا گیا تھا کہ وہ اپنے عہدے کی مدت میں کوئی توسیع نہیں چاہتے۔کیا جنرل قمر جاوید باجوہ راحیل شریف سے مختلف ثابت ہوں گے؟
راولپنڈی میں واقع پاکستانی فوجی کے ہیڈکوارٹرز میں منعقد ہونے والی خصوصی تقریب میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والے جنرل راحیل شریف نے لکڑی کی وہ چھڑی بھی جنرل قمر جاوید باجوہ کے حوالے کر دی، جس کی منتقلی عہدے اور اختیارات کی منتقلی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

DW.COM