1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فوج کی خاموشی، آخر معمہ ہے کیا؟

پاکستان میں اعلی فوجی افسران کی برطرفی کے حوالے سے بحث زور و شور سے جاری ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ پر جمعہ کو بھی فوجی افسران کی برطرفی کا معاملہ زیرِ بحث رہا۔

Raheel Sharif Pakistan

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کے مطابق دہشت گردی کے خاتمے کے لیے بدعنوانی کا خاتمہ ناگزیر ہے

افسران کی تعداد کے حوالے سے متضاد اطلاعات آتی رہیں۔ بدھ کو پاکستان کے تقریبا تمام چینلز نے یہ دعویٰ کیا کہ بارہ فوجی افسران کو بدعنوانی کی وجہ سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ کچھ چینلز نے یہ تعداد گیارہ بتائی۔

آج ملک کے دو بڑے اخبارات نے اس تعداد کو چھ کہا، جس میں دو سابق آجیز فرنٹیئر کانسٹیبلری بھی شامل تھے، جب کہ ذرائع ابلاغ کا ایک دوسرا حصہ اس دعویٰ پر بر قرار رہا کہ برطرف ہونے والے افسران کی تعداد گیارہ ہی ہے۔

میڈیا کے بہت کم حصے نے ان الزامات کی تفصیل بتائی جو ان افسران پر لگائے گئے ہیں۔ پاکستانی فوج کے شعبہء اطلاعات نے بھی اس مسئلے پر مکمل خاموشی اختیار کی ہوئی ہے، جس پر آج تحریک انصاف کی رہنما شیریں مزاری نے حیرت کا اظہار بھی کیا۔

بلوچستان حکومت کے دو اعلیٰ عہدیداروں نے نام نہ بتانے کی شرط پر ڈوئچے ویلے کو بتایا،’’بلوچستان میں نان کسٹمڈ گاڑیوں کی درآمد، سرحدی علاقوں میں ایران اور افغانستان سے مصنوعات کی خریداری اور تیل و ڈیزل کے غیر قانونی دھندے کی ریل پیل نے ایک مافیا کا روپ اختیار کر لیا ہے۔ برطرف ہونے والے فوج کے اعلیٰ عہدیداروں پر بھی اسی نوعیت کے الزامات تھے، جن میں صداقت بھی تھی۔‘‘

بلوچستان کے سرحدی علاقے میں متعین ایک اعلیٰ حکومتی اہلکار نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’سرحدی علاقوں میں تعیناتی افسران کا خوب بن گئی ہے کیونکہ یہاں مال بنانے کے ذرائع بہت ہیں۔ مثال کے طور پر بلوچستان سے جو بسیں کراچی جاتی ہیں، ان کے نچلے خانوں میں تیل اور ڈیزل یہاں سے بھیجا جاتا ہے، ایک بس کے سرکاری حکام چھ ہزار روپے لیتے ہیں۔ سینکڑوں بسیں یہ کام کرتی ہیں، اس کے علاوہ ٹرک اور دوسری گاڑیاں بھی ان کاموں کے لیے استعمال کی جاتی ہیں، تو آپ پیسے خود ضرب کرتے رہیں۔ یہ گاڑیاں ایف سی کی کئی چوکیوں سے ہو کرکراچی پہنچتی ہیں اور وہاں سے ملک کے دوسرے حصوں میں تیل و ڈیزل بھیجا جاتا ہے۔‘‘‘‘

Pakistan Nawaz Sharif

سیاسی دباؤ کا شکار نواز شریف جمعے کو قوم سے خطاب کر رہے ہیں

سینیٹر عثمان کاکڑ نے ڈوئچے ویلے سے بات چیت کرتے ہوئے کہا، ’’ہم نے سینٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے کہا کہ ایف سی والے تاجروں سے پیسے لینے میں ملوث ہیں لیکن ہماری اس بات کا بہت برا منایا گیا۔ آج ان کی برطرفی ہمارے اس دعویٰ کو صیح ثابت کرتی ہے۔ آج بھی ایف سی میں درجنوں ایسے افسران ہیں، جو بدعنوانی میں ملوث ہیں اور ان کا بھی احتساب ہونا چاہیے۔‘‘

بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک اور سینیٹر حاصل بزنجو نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’نہ صرف ایف سی بلکہ کوسٹ گارڈز اور لیویز کے حکام بھی ان کاموں میں مصروف ہیں۔ کچھ عرصے قبل تو مذہبی عسکریت پسند گروہ اور بلوچ علیحدگی پسند گروہ بھی اس میں ملوث تھے۔ نہ صرف ان دو سابق آئی جیز کے حوالے سے لوگوں کے ذہن میں سوالات تھے بلکہ ان سے پہلے آنے والے بھی دودھ کے دھلے ہوئے نہیں تھے۔ پرویز مشرف کے دور میں بھی یہ کام عروج پرتھا۔ آج بھی کئی عسکری اور غیر عسکری حکام اس کام میں ملوث ہیں۔‘‘

بلوچستان کے ایک انتہائی اعلیٰ ترین افسر نے ڈوئچے ویلے کو نام نہ بتانے کی شرط پر کہا، ’’بلوچستان حکومت کا کام ایف سی کی نگرانی کرنا نہیں ہے کیونکہ فوج کا یا وزراتِ داخلہ کا ایک اپنا نظام ہوتا ہے، ہم اس میں مداخلت نہیں کر سکتے۔ اگر لاہور میں ڈی ایچ والے کوئی بدعنوانی کرتے ہیں تو اس کے لیے آپ پنجاب حکومت کو تو ذمہ دار نہیں ٹھہرا سکتے۔ فوج کا اپنا ایک احتساب کا نظام ہے اور انہوں نے وہ کر کے بھی دکھایا ہے، جس کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘

پاکستان میں سوشل میڈیا پر اب یہ باتیں ہورہی ہیں کہ کچھ اور افسران کے خلاف بھی تفتیش چل رہی ہے۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر جاری بحث میں یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ یہ تو ابھی شروعات ہے، آگے آگے دیکھیے کہ کیا ہوتا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:51

راحیل شریف نے جو کہا، وہ کر دکھایا

Audios and videos on the topic