1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فوج کا تیار کردہ آئین عوام نے قبول کر لیا

تھائی لینڈ کے الیکشن کمیشن نے کہا ہے کہ ملک میں منعقد ہونے والے ریفرنڈم میں عوام کی اکثریت نے فوج کے تیار کردہ آئین کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ اس طرح اس آئین کی عوام کی طرف سے توثیق ہو گئی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حکمران جنتا کی طرف سے تیار کیے گئے آئین کے حوالے سے ملک میں آج اتوار سات اگست کو کرائے جانے والے ریفرنڈم کے ابتدائی نتائج کے مطابق عوام نے اس آئین کی منظوری دے دی ہے۔ فوجی حکومت کے ناقدین نے خبردار کیا تھا کہ یہ آئین نہ صرف فوجی طاقت میں اضافے کا باعث بنے گا بلکہ اس سے ملک میں تقسیم مزید گہری ہو جائے گی۔

جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اب تک 90 فیصد ووٹوں کی گنتی مکمل ہو چکی ہے۔ تھائی الیکشن کمیشن کے اعداد وشمار کے مطابق ڈالے گئے کُل ووٹوں میں سے 61.45 اس آئین کے حق میں جبکہ 38.55 فیصد ووٹروں نے اس کے خلاف ووٹ دیا۔ تاہم اس ریفرنڈم میں ووٹوں کا ٹرن آؤٹ اندازوں سے کافی کم رہا۔ قبل ازیں الیکشن کمیشن کی طرف بتایا گیا تھا کہ اہل ووٹروں کی قریب 70 فیصد تعداد نے اس ریفرنڈم میں حصہ لیا ہے جبکہ بعد ازاں بتایا گیا کہ ڈالے گئے کُل ووٹوں کی تعداد 27.6 ملین رہی اور یہ اہل ووٹروں کی تعداد کا قریب 55 فیصد بنتا ہے۔

ڈالے گئے کُل ووٹوں کی تعداد 27.6 ملین رہی اور یہ اہل ووٹروں کی تعداد کا قریب 55 فیصد بنتا ہے

ڈالے گئے کُل ووٹوں کی تعداد 27.6 ملین رہی اور یہ اہل ووٹروں کی تعداد کا قریب 55 فیصد بنتا ہے

تھائی لینڈ کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں اس آئین کے خلاف تھیں اور ان کا کہنا تھا کہ یہ آئین ’جمہوری نہیں ہے‘۔ تاہم ریفرنڈم کے نتائج سامنے آنے کے بعد سابق اپوزیشن رہنما ابھیسیت ویجاجیوا نے فیس بُک پر اپنے پیغام میں کہا ہے، ’’ہم اس ریفرنڈم کے نتائج کو تسلیم کرتے ہیں اور تمام اسٹیک ہولڈرز سے کہتے ہیں کہ وہ بھی ان نتائج کو تسلیم کریں۔‘‘ اپنے پیغام میں انہوں نے مزید لکھا، ’’ہم جنتا حکومت سے بھی مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ 2017ء میں عام انتخابات کرانے کے اپنے روڈ میپ پر عملدرآمد کرے۔‘‘ ویجاجیوا کا مزید کہنا تھا، ’’ہماری جماعت اور میں خود بھی مستقبل کی جانب دیکھیں گے اور ملک کو درپیش مسائل پر بات کرتے رہیں گے۔‘‘

تھائی لینڈ میں ملکی فوج کی طرف سے تشکیل کردہ ایک کمیٹی کی طرف سے بنائے گئے اس آئین کے تحت سن دو ہزار سترہ میں عام انتخابات کی راہ ہموار ہو سکے گی۔ فوج کی طرف سے کہا گیا تھا کہ اگر اس آئین کو منظور کر لیا گیا تو ملک میں پائیدار جمہوریت کا قیام ممکن ہو سکے گا۔