1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فوج میں سازش کی تردید، کئی سوالات نے جنم لے لیا

پاکستانی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی جانب سے سول اور فوجی قیادت کے درمیان کسی بھی قسم کے اختلافات کی تردید یا فوج میں کسی سازش کو مسترد کیے جانے کے حالیہ بیان نے متعدد سوالات کو جنم دیا ہے۔

وزیر داخلہ کو اس وقت یہ بیان دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی ؟ کیا فوج اور موجودہ حکومت کے درمیان تعلقات میں کوئی تنا ؤ ہے؟ کیا حکومت آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو، جوایک سال دو ماہ بعدا پنے عہدے سے ریٹائر ہو جائیں گے، مدت ملازمت میں توسیع دینے کے لیے راہ ہموار کر رہی ہے؟

ان سوالات کے جوابات پر تجزیہ کاروں کی رائے بھی منقسم نظر آتی ہے۔ معروف صحافی اور جیو نیوز سے وابستہ اینکر پرسن حامد میر کا کہنا ہے کہ چوہدری نثار کی ایک روز قبل کی گئی پریس کانفرنس دراصل وفاقی کابینہ میں وزراء کے درمیان اختلاف رائے کی عکاس تھی۔ انہوں نے کہا، ’’نواز شریف صاحب کی کابینہ کے کچھ وزراء جن میں وزیر دفاع خواجہ آصف نمایاں ہیں، حکومت کے خلاف سازش کرنے پر آئی ایس آئی کے دو سابق سربراہان جنرل شجاع پاشا اور جرنل ظہیر الاسلام کا نام لے رہے ہیں جبکہ چند وزرا ء جن میں وزیر داخلہ چوہدری نثار اور وزیر خزانہ اسحاق ڈار شامل ہیں، چاہتے ہیں کہ کسی جنرل کا نام نہ لیا جائے۔ تو یہ وہ صورتحال ہے جس کی وجہ سے چوہدری نثار کو پریس کانفرنس کرنا پڑی۔ میرا خیا ل ہے کہ اس میں آرمی چیف کو توسیع دینے کا معاملہ نہیں ہے۔‘‘

خیال رہے کہ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے گزشتہ روز اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان اطلاعات کو مسترد کیا تھا کہ گزشتہ برس تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران چند فوجی افسران کے درمیان فوج کے سربراہ کو ہٹانے کے لیے بات چیت چل رہی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ آرمی چیف کو عہدے سے ہٹانے سے متعلق خبر بے بنیاد اور مضحکہ خیز ہے۔ چوہدری نثار کے مطابق، ’’پاکستان کی فوج ایک انتہائی منظم اور پیشہ ور فوج ہے۔ ایسی فوج اس قسم کی اندورن خانہ سازشوں کا نہ پہلے نشانہ بنی اور نہ ہی بنے گی۔‘‘ وزیرِ داخلہ کا مزید کہنا تھا کہ موجودہ آرمی چیف ایک پروفیشنل سپاہی ہیں اور ڈیڑھ سال کے عرصے میں انھوں نے ان تھک محنت کی وجہ سے صرف فوج میں بلکہ پاکستان کے طول و عرض میں عزت کمائی ہے۔

حامد میر کا کہنا ہے کہ ان کی معلومات کے مطابق تحریک انصاف کے دھرنے کے دوران ایک موقع پر وزیر اعظم نواز شریف نے اپنی کابینہ کے وزراء کو بتایا کہ ان کے پاس جنرل ظہیر الاسلام کے خلاف اتنے شواہد ہیں کہ وہ اسے منظر عام پر لا سکتے ہیں ۔حامد میر کے بقول، ’’اس پر چوہدری نثار علی خان نے جو جنرل ظہیر الاسلام کے دوست ہیں، وزیر اعظم کو ایسا کرنے سے منع کرتے ہوئے کہا کہ اس کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا اور یہ کہ انہیں محاز آرائی سے گریز کرنا چاہیے۔‘‘

موجودہ آرمی چیف ایک پروفیشنل سپاہی ہیں اور ڈیڑھ سال کے عرصے میں انھوں نے ان تھک محنت کی وجہ سے صرف فوج میں بلکہ پاکستان کے طول و عرض میں عزت کمائی ہے، چوہدری نثار

موجودہ آرمی چیف ایک پروفیشنل سپاہی ہیں اور ڈیڑھ سال کے عرصے میں انھوں نے ان تھک محنت کی وجہ سے صرف فوج میں بلکہ پاکستان کے طول و عرض میں عزت کمائی ہے، چوہدری نثار

وزیر داخلہ کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے موقع پر سامنے آیا ہے جب جمعہ 31 جولائی کو پی ٹی آئی کے ایک رہنما بریگیڈیئر (ر) سیمسن شیرف نے ایک ٹاک شو میں انکشاف کیا کہ دھرنوں کے دوران وزیر اعظم نواز شریف نے آرمی چیف جنرل راحیل شریف سے ایک ملاقات کے دوران انہیں ایسی آڈیو ٹیپس سنائیں جن میں مبینہ طور پر جنرل ظہیر الاسلام اور ان کے ماتحت افسران پی ٹی آئی کے کچھ رہنماؤں سے دھرنے میں مستقبل کی حکمت عملی سے متعلق تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ بریگیڈئیر ریٹائرڈ شیرف کے مطابق ان آڈیو ٹیپس کے سننے کے بعد جنرل راحیل شریف نے جنرل ظہیر الاسلام کو طلب کر کے پوچھا کہ کیا انہوں نے نے ایسا کرنے کو کہا تھا جس پر جنرل ظہیر الاسلام نے نفی میں جواب دیا ۔اس پر جنرل راحیل نے انہیں (جنرل ظہیر) وہاں سے چلے جانے کے لیے کہا اور یوں حکومت اور فوجی قیادت میں حالات خراب ہونے سے بچ گئے۔

اسلام آباد میں قائم ایک تھنک ٹینک سینٹر فار ریسرچ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز(سی آر ایس ایس ) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر امتیاز گُل کا کہنا ہے کہ دھرنے میں کیا ہوا یہ بات اب ماضی کا قصہ ہے اور عملاﹰ اس کی اب کوئی اہمیت نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اصل بات یہ ہے کہ سول حکومت کی کوتاہ اندیشیوں اور بے عملی کی وجہ سے فوج کو بہت سے معاملات اپنے ہاتھ میں لینا پڑے ہیں: ’’جنوبی وزیرستان میں آپریشن ہو یا کراچی میں امن وامان کے قیام کا مسئلہ، سیلاب متاثرین ہوں یا بے گھر افراد فوج ہر طرف غیر معمولی طور پر سر گرم ہے اور یہ بات یقیناﹰ سول حکومت کے حق میں نہیں جاتی ۔‘‘

انہوں نے کہا کہ بظاہر اس وقت فوج اور سول حکومت کے درمیان اس لیے کوئی مسئلہ نظر نہیں آتا کہ سول حکومت نے خود کو فوج کے تابع کیا ہوا ہے۔ آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کے حوالے سے سوال کے جواب میں امتیاز گل نے کہا، ’’یہ آنے والا وقت ہی بتائے گا کہ اس بارے میں کیا فیصلہ ہوتا ہے اور یہ خود جنرل راحیل شریف پر بھی منحصر ہو گا کہ وہ اپنے پیشرو جنرل کیانی کی طرح توسیع لینا چاہیں گے یا نہیں۔‘‘