1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فوج مصراتہ چھوڑ دے گی، طرابلس حکام

لیبیا کے حکام نے کہا ہے کہ فوج مصراتہ سے نکل جائے گی اور باغیوں کے ساتھ تنازعے کا حل مقامی قبائل پر چھوڑ دیا جائے گا۔ نائب وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اس کا انحصار قبائل پر ہوگا کہ وہ تنازعہ مذاکرات سے حل کریں یا لڑائی سے۔

default

لیبیا کے نائب وزیر خارجہ خالد قائم نے طرابلس میں صحافیوں کو بتایا، ’مصراتہ کے گرد آباد قبائل اور اس کے شہری حالات پر قابو پائیں گے نہ کہ لیبیا کی فوج۔’

انہوں نے بتایا کہ حکومت اس شہر میں تنازعے کا حل قبائل اور شہریوں پر چھوڑ دے گی، چاہے وہ ایسا طاقت سے کریں یا بات چیت کے ذریعے۔

قائم نے کہا کہ لیبیا کی فوج کو اس مغربی شہر میں بغاوت پر قابو پانے کے لیے الٹی میٹم دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’اگر فوج مصراتہ کا مسئلہ حل نہ کر سکی، تو قریبی قصبوں زلیتن، ترھونہ، بنی ولید اور توارغوہ کے لوگ آگے آئیں گے اور باغیوں سے بات چیت کریں گے۔ اگر انہوں نے ہتھیار نہ ڈالے اور وہ ان سے لڑائی کریں گے۔‘

NO FLASH Libyen Misrata Adschdabiya Kampf

مصراتہ گزشتہ کچھ ہفتوں سے باغیوں اور قذافی نواز فورسز کے دوران گوریلا لڑائی کا مرکز بنا ہوا ہے

مصراتہ گزشتہ کچھ ہفتوں سے باغیوں اور قذافی نواز فورسز کے دوران گوریلا لڑائی کا مرکز بنا ہوا ہے۔ انٹرنیشنل کمیٹی برائے ریڈ کراس نے ایک بیان میں کہا ہے، ’مصراتہ میں ہزاروں شہری سات ہفتے سے جاری لڑائی میں پھنس کر رہ گئے ہیں۔‘

اُدھر خالد قائم نے کہا ہے کہ امریکی حکومت نے ’عوام کو قتل’ کرنے کے لیے لیبیا میں ڈرون بھیجنے کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن حکومت پر ’انسانیت کے خلاف نئے جرائم’ کا الزام لگایا۔

امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے جمعرات کو کہا تھا کہ صدر باراک اوباما نے شہریوں کی مخدوش صورت حال کے تناظر میں لیبیا میں ڈرون طیاروں کے ذریعے کارروائی کی منظوری دی۔

امریکی سینیٹر جان مکین نے بن غازی کا دورہ بھی کیا ہے۔ وہاں انہوں نے باغیوں کی عبوری نیشنل کونسل کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ باغیوں کی اس کونسل کو لیبیا کے عوام کی قانونی آواز کے طور پر تسلیم کرتے ہوئے مسلح کیا جائے۔

تاہم خالد قائم نے جان مکین کے دورہ بن غازی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ باغیوں کی کونسل لیبیا کے عوام کی نمائندہ تنظیم نہیں ہے اور اسے کوئی اختیار حاصل نہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عابد حسین

DW.COM

ویب لنکس