1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فوجی ہیڈکوارٹرز پر حملہ ، پاکستان کا موقف

پاکستان میں فوج کے ہیڈکوارٹرز پر حملے کے بعد وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا ہے کہ حالیہ دنوں میں ہونے والے دہشتگردی کے تمام واقعات کی کڑیاں جنوبی وزیرستان سے ملتی ہیں۔

default

Rehman Malik Pakistan

پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک

انہوں نے کہا کہ ان حملوں کی معاونت کےلئے بیرونی خصوصاً افغانستان کے ہاتھ کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا، 'دہشتگرد عناصر کو جتنی بھی معاونت ہے وہ افغانستان سے مل رہی ہے ہم نے اس پر احتجاج بھی کیا ہے اور جب بھی باضابطہ مذاکرات ہوئے ہیں ہم نے اس بات کو اٹھایا ہے۔ اسلحہ اور دیگر قسم کی معاونت کو افغانستان سے روکا جائے۔ آنے والے وقت میں ہمارے ہمسایہ ممالک کو خیال سے رکھنا پڑے گا۔‘‘

دریں اثناء صدر آصف علی زرداری اور وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے دہشت گردوں پر قابو پانے اور بڑی تعداد میں یرغما لیوں کی بحفاظت رہائی پر پاک فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو مبارکباد دی ہے۔اسکے علاوہ دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے بریگیڈیئر انوارالحق اور لیفٹیننٹ کرنل وسیم کو سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔

Rawalpindi Pakistan

شدت پسندوں نے ہفتہ کو فوجی ہیڈکوارٹرز پر حملہ کیا

ادھر فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے فوجی کارروائی کے دوران ہلاک ہونے والے دو دہشت گردوں کی تصاویر ذرائع ابلاغ کو جاری کر دی ہیں اور ان دہشت گردوں کی عمریں بیس سے تیس سال کے درمیان ہیں۔تاہم بعض حلقے اس بات پر بھی تنقید کر رہے ہیں کہ جی ایچ کیو پر حملوں کی واضح پیشگی اطلاع کے باوجود دہشتگرد کس طرح اتنے حساس مقام پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوئے۔ مسلم لیگ نواز کے سیکرٹری اطلاعات احسن اقبال نے بھی کچھ اسی طرح کے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا، 'اس بات کی تحقیقات ضروری ہیں کہ کافی دن پہلے اخبار ات میں یہ خبر شائع ہونے کے باوجود کہ فوجی وردی میں ملبوس دہشتگرد جی ایچ کیو پر اس نوعیت کا حملہ کر سکتے ہیں تو کیونکر احتیاطی اور سیکیورٹی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔'

راولپنڈی میں جی ایچ کیو کے ایک داخلی سیکیورٹی دفتر میں پانچ دہشتگردوں نے 18 گھنٹے تک جن2 4 فوجی اور سول اہلکاروں کو یرغمال بنائے رکھا تھا، ان میں سے 39 کو ایک کمانڈو آپریشن کے ذریعے بحفاظت بازیاب کرا لیا گیا ہے۔

Athar Abbas Sprecher der pakistanischen Armee

فوجی ترجمان اطہرعباس

آئی ایس پی آر کے مطابق فوجی کارروائی کے دوران تین یرغمالیوں اور کمانڈوز کے علاوہ چار دہشتگرد بھی مارے گئے جبکہ سیکیورٹی اہلکاروں نے مبینہ طور پر حملہ آوروں کے سرغنہ عقیل عرف ڈاکٹر عثمان کو زخمی حالت میں گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔حکام کے مطابق عقیل عرف ڈاکٹر عثمان راولپنڈی کی تحصیل کہوٹہ کا رہائشی ہے اور وہ پنجابی طالبان نام کی اس تحریک کا سربراہ ہے جس نے رواں سال مارچ میں پاکستان کا دورہ کرنے والی سری لنکن ٹیم کو لاہور میں دہشتگردانہ حملے کا نشانہ بنایا تھا اور اس حملے میں پولیس اہلکاروں سمیت سات افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

ادھر فوج کے ترجمان میجر جنرل اطہر عباس کے مطابق سیکیورٹی آفس سے یرغمالیوں کی رہائی کے بعد کلیئرنس آپریشن مکمل کر لیا گیا ہے، 'سیکیورٹی آفس کی عمارت میں یرغمالیوں کو بازیاب کرا لیا گیا ہے۔ اس کارروائی میں تین یرغمالی بھی ہلاک ہوئے تھے اور اس وقت صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔'

رپورٹ: شکوررحیم ، اسلام آباد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM