1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فوجی مشنز کے ليے اضافی اہلکار درکار ہيں، جرمن فوج

شام ميں سرگرم دہشت گرد تنظيم اسلامک اسٹيٹ يا داعش کے خلاف فوجی کارروائی ميں شموليت کے حوالے سے جرمن پارليمان کی منظوری کے ايک دن بعد وفاقی جرمن فوج نے مشن کو ممکن بنانے کے ليے اضافی دستوں کا مطالبہ کر ديا ہے۔

’بنڈس ويئر‘ يا جرمن فوج کی يونين کے سربراہ آندرے ووسٹنر نے اخبار ’پاساؤئر نوئے پريسے‘ کو آج ہفتے کے روز انٹرويو ميں کہا، ’’ہميں اس وقت پانچ تا دس ہزار اضافی فوجيوں کی ضرورت ہے۔‘‘ ان کے بقول فوجيوں کی تعداد ميں اضافہ اس ليے لازمی ہے کيونکہ آئندہ برس يکم جنوری سے ايک نئے قانون پر عمل در آمد شروع ہو رہا ہے، جس کے تحت بنيادی آپريشنز کے ليے جرمن فوجیوں کی چوبيس گھنٹے سروس مہيا کرنے کی اجازت نہيں ہو گی۔

قبل ازيں جمعے چار دسمبر کے روز جرمن پارليمان کے ايوان زيريں نے ديگر کئی ممالک کے نقش قدم پر چلتے ہوئے شام ميں اسلامک اسٹيٹ کے خلاف لڑاکا مشن کے ليے ايک سال کی مدت کے ليے بارہ سو جرمن فوجيوں پر مشتمل مشن کی منظوری دے دی تھی۔ جرمنی اپنے چھ ٹورناڈو جاسوسی طیارے، لڑاکا جنگی بحری جہاز اور بارہ سو فوجی شام بھیجے گا۔ جرمن چانسلر انگيلا ميرکل نے آج بروز ہفتہ واضح الفاظ ميں کہا ہے کہ داعش کے خلاف لڑائی ميں شامی صدر بشار الاسد کے ساتھ تعاون نہيں کيا جائے گا۔

انٹرويو ميں جرمن فوجی يونين کے سربراہ آندرے ووسٹنر نے واضح کيا کہ ماضی ميں فوجی دستوں ميں لائی جانے والی کمی کافی زيادہ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا، ’’سن 2011 ميں متعارف کی جانے والی اصلاحات کے وقت کوئی يوکرائنی مسلح تنازعے يا داعش کے خلاف مشن کا پيشگی اندازہ نہيں لگا سکتا تھا۔‘‘ سياستدانوں کو اس وقت يہ علم نہ تھا کہ فوجی سرگرميوں اور پناہ گزينوں سے نمٹنے جيسے ديگر معاملات کے ليے 2016ء ميں بيس ہزار فوجی درکار ہو سکتے ہيں۔ ووسٹنر کے بقول اب افغانستان کے ليے جرمن مشن ميں بھی توسيع کی جائے گی اور شمالی عراق و افريقی ملک مالی ميں بھی جرمن فوجيوں کی تعداد بڑھائی جائے گی۔ ايسے ميں فوجی اہلکاروں کی تعداد ميں اضافہ اور ساز و سامان ميں بہتری لازمی ہے۔

وزير دفاع اُرزولا فان ڈيئر لائن

وزير دفاع اُرزولا فان ڈيئر لائن

جرمن وزير خارجہ فرانک والٹر اشٹائن مائر نے جمعے کو اپنے ايک بيان ميں کہا تھا کہ افرادی قوت کے لحاظ سے فوج پر دباؤ کے باوجود برلن حکومت کی جانب سے اہلکاروں ميں اضافے کا کوئی منصوبہ نہيں۔ ان کے بقول شام ميں مشن کا فيصلہ وزير دفاع اُرزولا فان ڈيئر لائن نے موجودہ دستوں کی بنياد پر ليا تھا۔ اس کے برعکس فوجی اہلکاروں کی تعداد ميں وسعت کے موضوع پر بات کرتے ہوئے وزير دفاع کا کہنا تھا، ’’يہ واضح ہے کہ اگر ہم سے اسی طرز کے مطالبات کيے جاتے رہے، تو ہميں افرادی قوت کے اعتبار سے لچک دکھانی پڑے گی۔‘‘

اس وقت بنڈس ويئر کے فوجيوں کی مجموعی تعداد 179,000 ہے، جن ميں سے قريب تين ہزار بيرون ملک تعينات ہيں۔

ملتے جلتے مندرجات