1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فوجی مشقیں آج ہوں گی ، سیول

جنوبی کوریا نے اعلان کیا ہے کہ وہ متنازعہ جزیرے ییون پیونگ پر فوجی مشقیں آج کرے گا۔ شمالی کوریا نے کہہ رکھا ہے کہ اگر یہ مشقیں کی گئیں تو اس کے نتائج تباہ کن ثابت ہوں گے۔

default

جنوبی کوریا کے وزرات دفاع کے ترجمان نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا،’ یہ مشقیں آج کی جائیں گی۔‘ سیول حکومت نے ییون پیونگ کے رہائشیوں کومحفوظ بینکرز میں منتقل کرنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جزیرےکے تمام لوگ محفوظ مقامات پر منتقل ہو چکے ہیں۔ جنوبی کوریا نے کہا تھا کہ براہ راست فائرنگ والی یہ مشقیں عالمی وقت کے مطابق چار بجے شروع کی جائیں گی تاہم بعدازاں دھند کی وجہ سے تاخیر کا اعلان کر دیا گیا۔ روس نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ جنوبی کوریا طے شدہ فوجی مشقیں موخر کر دے۔

دوسری طرف جزیرہ نما کوریا میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کو کم کرنے کے لئے خصوصی طور پر بلوایا گیا سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بغیر کسی خاص پیش رفت کے ختم ہو گیا ہے۔ روس کی درخواست پر یہ ہنگامی اجلاس اتوار کے دن منعقد کیا گیا۔ روسی مندوب نے کہا ہے کہ شاید پیر کو یہ اجلاس دوبارہ منعقد کیا جائے۔

خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق پانچ مستقل ارکان کے مابین یہ اتفاق نہ ہو سکا کہ اس بحران کی ذمہ داری شمالی کوریا پرعائد کی جائے یا نہیں۔ اس اجلاس کے بعد ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا، جس میں شمالی اور جنوبی کوریا پر زور دیا گیا کہ فریقین صبروتحمل کا مظاہرہ کریں۔ روس نے کہا ہے کہ اس معاملے کے پائیدار حل کے لئے اقوام متحدہ کا ایک خصوصی مندوب جزیرہ نما کوریا روانہ کیا جائے، جو مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کو کم کرے۔

گزشتہ ماہ شمالی کوریا کی طرف سے جنوبی کوریائی جزیرے پر شیلنگ کے بعد سے دونوں ممالک کےمابین تناؤ میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ اس شیلنگ کے نتیجے میں جنوبی کوریا کے دو فوجیوں سمیت کل چار افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

Korea / Südkorea / Soldaten / NO-FLASH

جنوبی کوریائی افواج متنازعہ جزیرے ییون پیونگ میں

جنوبی کوریا اور امریکہ کی مشترکہ فوجی مشقوں کے بعد اب جنوبی کوریا نے کہا ہے کہ وہ منگل کو متنازعہ جزیرے ییون پیونگ میں ایک روزہ فوجی مشق کرے گا۔ دوسری طرف شمالی کوریا نے کہا ہے کہ اس فوجی مشق کی صورت میں تباہ کن نتائج برآمد ہوں گے۔

روس نے اس صورتحال میں اقوام متحدہ کے سربراہ بان کی مون سے خصوصی درخواست کی ہے کہ وہ اپنا ایک خصوصی نمائندہ جلد از جلد جزیرہ نما کوریا روانہ کریں تاکہ وہ بغیر کسی تاخیر کےدونوں ممالک کے مابین تنازعات کا حل تلاش کرے۔

دوسری طرف شمالی کوریا کے لئے خصوصی امریکی مندوب بل رچرڈسن نے جزیرہ نما کوریا کی موجودہ صورتحال کو تشویشناک قرار دیا ہے۔ انہوں نے پیونگ یانگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ تناؤ کو کم کرے۔ چین اور روس نے جنوبی کوریا پر زور دیا ہے کہ فوجی مشق سے احتراز کرے جبکہ امریکہ کا کہنا ہے کہ یہ سیئول حکومت کا حق ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM