فوجی امداد میں کمی، کیا پاکستان پر دباؤ بڑھانے کا طریقہ ہے؟ | حالات حاضرہ | DW | 24.05.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فوجی امداد میں کمی، کیا پاکستان پر دباؤ بڑھانے کا طریقہ ہے؟

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے ممکنہ طور پر پاکستان کی فوجی امداد محدود کرنے کے منصوبے نے پاکستان کے لیے یہ سوال کھڑا کر دیا ہے کہ اب اسلام آباد کو اگلے مالی سال میں کولیشن سپورٹ فنڈ سے کتنا پیسہ ملے گا۔

پاکستان کے انگریزی روزنامے ایکسپریس ٹریبون کے مطابق واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان طے شدہ مفاہمت کے تحت پاکستان کو مالی سال دوہزار سترہ، اٹھارہ میں امریکہ سے 1.5بلین ڈالرز ملنے ہیں، لیکن پاکستانی وزارتِ خزانہ کو اب تک امریکی انتظامیہ سے اس سلسلے میں مثبت اشارے نہیں ملے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ موجودہ مالی سال کے پہلے نو مہینوں میں اسلام آباد کو صرف پانچ سو پچاس ملین ڈالرز ملے جب کہ وعدہ آٹھ سو اَسی ملین ڈالرز کا تھا۔

اس صورتِ حال نے پاکستان میں تجزیہ نگاروں کو یہ کہنے پر مجبور کر دیا ہے کہ واشنگٹن کی طرف سے یہ دباؤ ڈالنے کے ہتھکنڈے ہیں۔ معروف دفاعی تجزیہ نگار ریٹائرڈ میجر جنرل اعجاز اعوان نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’امریکہ افغانستان میں ناکام ہورہا ہے۔ وہ ایک لاکھ چالیس ہزار فوجیوں کو رکھنے کے باوجود بھی وہاں امن قائم نہیں کر سکا۔ خطیر رقم سے انہوں نے افغان نیشنل آرمی بنائی، جو بہت منقسم ہے اور اس میں کرپشن بھی عروج پر ہے۔ اس کے علاوہ اس میں گھوسٹ ملازمین بھی ہیں اور طالبان نے بھی اس میں اپنے بندے داخل کیے ہوئے ہیں۔ اب ان سارے مسائل کا ملبہ کسی اور طرف ڈالنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اب پاکستان پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ حقانی نیٹ ورک کے خلاف بھی ایکشن لے اور اس کے علاوہ بھارت کو خوش کرنے کے لیے یہ بھی مطالبہ کیا جارہا ہے کہ جماعت الدعوة اور جیشِ محمد کے خلاف بھی کارروائی کی جائے۔‘‘


ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے اقدامات سے پاکستان نہ صرف چین سے مزید قریب ہوجائے گا بلکہ وہ روس سے بھی اسٹریٹیجک پارٹنرشپ بڑھائے گا کیونکہ ماسکو نہ صرف داعش کے خطرے کی وجہ سے طالبان کی حمایت کرنا چاہتا ہے بلکہ وہ خطے میں امریکی اثر ورسوخ کم کرنے کا بھی خواہش مند ہے۔ تو پاکستان کے لیے راستے کھلے ہیں۔‘‘

ایک سوال کے جواب میں اعجاز اعوان نے کہا، ’’میری سمجھ میں نہیں آ رہا کہ وہ کولیشن سپورٹ فنڈ کیسے کم کر سکتے ہیں کیونکہ یہ تو وہ رقم ہے جو پہلے ہی سے کسی آپریشن پر خرچ کی ہوئی ہوتی ہے۔ وہ محض اس خرچ کی ہوئی رقم کو واپس لوٹاتے ہیں۔ میرے خیال میں ان کے لیے ایسا کرنا آسان نہیں ہوگا۔‘‘
معروف دانشور ڈاکٹر خالد جاوید جان نے اپنے تاثرات دیتے ہوئے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’اس ممکنہ اقدام کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ اب امریکہ کو ہماری افغانستان میں ضرورت نہیں رہی۔ پہلے طالبان کو ہٹانے کے لیے اسے ہماری ضرورت تھی۔ پھر انہیں ختم کرنے کے لیے بھی اسے ہماری ضرورت پڑی لیکن ہم نے ڈبل گیم جاری رکھا، تو اس کے لیے ایک طرف تو اس نے افغان آرمی کو تیار کیا اور دوسری طرف بھارت کے اثر ورسوخ کو افغانستان میں بڑھایا۔ تو اب یہ ظاہر ہے کہ واشنگٹن کو ہماری ضرورت نہیں رہی اسی لیے وہ ایسے کام کر رہا ہے۔‘‘
ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر خالد جاوید نے کہا، ’’اس اقدام کی ایک وجہ سعودی عرب بھی ہو سکتا ہے۔ ہم نے یمن کے مسئلے پر ریاض کا ساتھ نہیں دیا۔ جس پر سعودی ہم سے نالاں ہیں۔ سعودی حکمرانوں کا امریکہ پر بہت اثر ورسوخ ہے۔ وہ اپنی دولت کی بنیاد پر امریکی پالیسوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ تو یہ ممکن ہے کہ ریاض نے پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے امریکہ کے کان بھرے ہوں اور کہا ہو کہ ہماری امداد کم کی جائے۔‘‘

لیکن امریکی پالیسوں کی پاکستان میں ایک بڑی نقاد اور معروف معیشت دان ڈاکٹر شاہدہ وزارت اس امریکی اقدام پر خوش ہیں۔ ڈوئچے ویلے کو اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اچھا ہے کہ امریکہ نے ایسا کرنے کا کہا ہے۔ جب آپ امداد لیتے ہیں تو امداد کے ساتھ ڈکٹیشن بھی آتا ہے۔ کولیشن سپورٹ فنڈ کے پیسے کے ساتھ ڈو مور کا مطالبہ بھی آتا ہے۔ ہمیں اس غلامانہ طرز زندگی کو ترک کرنا چاہیے۔ کب تک ہم امداد لے کر آپریشن کرتے رہیں گے۔ مسائل بات چیت کے ذریعے بھی حل کیے جا سکتے ہیں۔ یہ مغربی ممالک جب ہمارے پاس آتے ہیں تو آپریشن کا مطالبہ کرتے ہیں اور جب یہ اپنے لوگوں کے پاس جاتے ہیں تو مسائل کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی بات کرتے ہیں۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہیلری کلنٹن وزیرِ خارجہ بننے کے بعد جب یہاں پہلی مرتبہ آئیں تو انہوں نے ہم سے کہا کہ آپ وزیرستان میں آپریشن کریں اور جب وہ برطانیہ گئیں تو آئی آر اے سے ہونے والے ماضی میں معاہدے کے حوالے سے انہوں نے مذاکرات کا راستہ اپنانے کی بات کی۔‘‘

Saudi Arabien vor dem Trump Besuch

’’امریکہ مسلم ممالک کو آپس میں لڑوا رہا ہے اور ہم ان سے ہتھیار خرید کر ان کی جیبیں بھر رہے ہیں‘‘

ڈاکٹر شاہدہ وزارت کے مطابق، ’’امریکہ مسلم ممالک کو آپس میں لڑوا رہا ہے اور ہم ان سے ہتھیار خرید کر ان کی جیبیں بھر رہے ہیں۔ آپ دیکھیں کہ ابھی ٹرمپ نے سعودی عرب سے اربوں ڈالرز کے معاہدے کیے اور پھر اسرائیل جاکر صیہونی حکومت کی امداد کا اعلان کیا۔ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو آپس کی لڑائیاں ختم کرنی چاہییں اور دوسرے ممالک پر انحصارنہیں کرنا چاہیے۔‘‘