1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

فواد خان کی مشکل آسان

پاکستانی اداکار فواد خان کی بالی وڈ فلم ’اے دل ہے مشکل‘ کو فلم سازوں کی جانب سے مستقبل میں پاکستانی اداکاروں کے بھارتی فلم انڈسٹری میں کام کرنے پر پابندی کی حمایت کے فیصلے کے بعد ریلیز ہونے کی اجازت مل گئی ہے۔

Pakistan Indien Schauspieler Fawad Khan mit Sonam Kapoor (STRDEL/AFP/Getty Images)

فواد خان کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ آیندہ ہفتے دیوالی کے تہوار سے دو روز قبل نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے

گزشتہ ماہ ستمبر کی اٹھارہ تاریخ کو کشمیر میں اُڑی کے مقام پر ایک بھارتی فوجی چھاؤنی پر عسکریت پسندوں کے حملے کے ردّ عمل کے طور پر انتہا پسند سیاسی جماعت مہاراشٹر نو نرمان سینا ’ایم این ایس‘ نے دھمکی دی تھی کہ بھارتی ہدایت کار کرن جوہر کی پروڈکشن کمپنی کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ کو نمائش کے لیے پیش کرنے والے سنیما گھروں کو نذرِ آتش کر دیا جائے گا۔ وجہ یہ تھی کہ اس میں پاکستانی اداکار فواد خان ایک اہم رول ادا کر رہے ہیں۔

 

تاہم بائیس اکتوبر بہ روز ہفتہ بھارتی فلم اور پروڈیوسرز گِلڈ نے کرن جوہر اور ایم این ایس کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت کرن جوہر مستقبل میں پاکستانی اداکاروں کے بھارت میں کام کرنے پر پابندی پر اتفاق کر گئے ہیں۔ اِس معاہدے کے بعد اب فواد خان کی فلم ’اے دل ہے مشکل‘ آیندہ ہفتے دیوالی کے تہوار سے دو روز قبل نمائش کے لیے پیش کی جا رہی ہے۔

 اجلاس کے بعد گلڈ کے سربراہ مکیش بھٹ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا، ’’بھارتی فوج، عوام اور تمام ملک کے جذبات کو مدّ نظر رکھتے ہوئے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ مستقبل میں کسی بھی پاکستانی اداکار کے ساتھ کام نہیں کیا جائے گا۔‘‘

 معاہدے کے تحت ہدایت کار کَرن جوہر اور اُن کے ساتھی فلم میں پاکستانی اداکار کو نمایاں رول میں کاسٹ کرنے کی تلافی کے طور پر  بھارتی فوج کے لیے مختص ایک فنڈ میں پانچ کروڑ روپے بھی جمع کروائیں گے۔

 

 اُڑی حملے کے تناظر میں بھارت اور پاکستان کے درمیان تازہ ترین میدانِ جنگ بالی وڈ بنا ہوا ہے۔ جہاں بھارت میں ہندو قوم پرستوں نے پاکستانی اداکاروں کی فلمیں ریلیز کیے جانے پر متعلقہ سنیما گھروں کے خلاف کارروائی کرنے کی دھمکیاں دے رکھی ہیں تو دوسری جانب پاکستان نے بھی حالات ساز گار ہونے تک اپنے ہاں تمام بھارتی فلموں کی نمائش پر پابندی عائد کر دی  ہے۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان اس برس جولائی سے تناؤ جاری ہے۔ بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں افواج نے حزب المجاہدین تنظیم کے رہنما برہان وانی کو جولائی میں ہلاک کر دیا تھا۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں کشیدگی میں اضافہ رواں برس ستمبر میں اُس وقت ہوا جب پاک بھارت سرحدی علاقے اُڑی میں بھارتی افواج پر عسکریت پسندوں کے حملے میں انیس بھارتی فوجی ہلاک ہوگئے تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان میں موجود اسلامی عسکریت پسندوں پر ڈالا۔ پاکستان اس الزام کی تردید کرتا ہے۔

 اڑی حملےکے چند دن بعد بھارت نے پاکستان ميں سرجیکل اسٹرائیکس کرنے کا دعوی بھی کيا تھا۔ پاکستان نے اس دعوے کو بھی بے بنیاد قرار دیا تھا۔