1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

فنڈز کی کمی کے باعث رومن شہنشاہ کا قلعہ زبوں حالی کا شکار

رومن شہنشاہ ’ہاڈرین‘ کے دور میں قائم ہونے والا قلعہ اٹلی کے مرکز میں زبوں حالی کا شکار ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت سے تاریخی قلعے ہیں، جن کی مرمت ضروری ہے۔

default

انیس سو ننانوے میں’ایڈرینہ‘ قلعے کو عالمی ورثہ قرار دیتے ہوئے یونیسکو کی فہرست میں شامل کر دیا گیا تھا۔ یہ سابق شاہی رہاہش گاہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ ماہرین نے حکومت کی اس عدم دلچسپی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سن 2010 میں وزیراعظم سلویو برلسکونی کو ہاڈرین قلعے کی مرمت نہ کرانے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ اس وقت اُنہوں نے اس بات یقین دلایا تھا کہ وہ جلد ہی اس کی مرمت کا انتظام کرائیں گے لیکن اس کے بعد اس معاملے کو دوبارہ بھلا دیا گیا۔ اب صورتحال اس قدر بگڑ چکی ہے کہ سیاحوں نے بھی ادھر آنا چھوڑ دیا ہے۔

ایک سو سترہ سے ایک سو اڑتیس بعد از مسیح تعمیر ہونے والی اس سابق شاہی رہائش گاہ کے زیادہ تر حصوں کو دیکھ کر یوں لگتا ہے کہ قلعے کی سیر کرنا خطرے سے خالی نہیں۔

ہاڈرین قلعے کے منتظمین نے اس کی مرمت کے لیے2.5 ملین یورو کا تحمینہ لگایا ہے لیکن وزارت ثقافت نے اس کی مرمت کا تخمینہ تین لاکھ ستر ہزار یورو لگایا ہے۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ اٹلی حکومت نہ صرف ہاڈرین بلکہ کئی دوسری تاریخی اہمیت کی حامل عمارتوں کی مرمت سے گریزاں ہے۔

2011ء کے ابتداء میں گلانز خاندان کے جانشین ساندرو بوندی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا کیونکہ 2010ء کے آخر میں شدید بارشوں کی سبب معروف پومپائی شہر میں واقع گلیڈی ایٹرز کا دو ہزار برس پرانا گھر گر گیا تھا۔ بین الاقوامی تنقید کے باعث بالآخر ساندرو بوندی کو اپنا عہدہ چھوڑنا پڑا۔ تاہم روم کے معروف کولوسیم کو تباہی سے بچانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

روم حکومت نے اس کا حل یہ نکالا ہے کہ نجی سپانسرز سے رقوم حاصل کرکے اس تاریخی ورثے کی بحالی کا کام انجام دیا جائے۔ اس کے بدلے یہ سپانسرز اپنے اشتہاروں میں اس عالمی یادگار کو تشہیری مقاصد کے لیے استعمال کرسکیں گے۔

رپورٹ: سائرہ ذوالفقار

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM