1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فل باڈی اسکین، پاکستانی قانون سازامریکہ سے احتجاجاﹰ وطن واپس

پاکستان کے قبائلی علاقوں سے تعلق رکھنے والے چھ ارکان اسمبلی امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی دعوت پر 28 فروری کو واشنگٹن پہنچے تھے۔ واشنگٹن سے ایک اور امریکی شہر سفر کرنے کے لئے وفد کو فل باڈی اسکین کرانے کے لئے کہا گیا تھا

default

گزشتہ ماہ 19 امریکی ایئرپورٹس پر فُل باڈی اسکینرز لگانے کے بعد یہ پہلا سرکاری وفد ہے جسے فل باڈی اسکین کرانے کے لئے کہا گیا۔ وفد کے سربراہ عباس آفریدی نے ایک پاکستانی ٹیلی وژن چینل ایکسپریس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے انہیں قبائلی علاقوں میں سیکیورٹی اور ترقیاتی منصوبوں کے بارے میں گفتگو کے لئے امریکہ آنے کی دعوت دی تھی۔

Sicherheitskontrolle Flughafen

کرسمس کے دن طیارے کو تباہ کرنے کی کوشش کے بعد سے مغربی ممالک میں ہوئی اڈوں پر حفاظتی اقدامات سخت کردئے گئے ہیں

آفریدی کے مطابق وفد کو یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ ان کا فل باڈی اسکین نہیں کیا جائے گا۔ عباس آفریدی نے مزید بتایا کہ جب ان کا وفد 28 فروری کو پاکستان سے واشنگٹن پہنچا تو انہیں فل باڈی اسکین سے استثناء دیا گیا۔ تاہم چھ مارچ کو پاکستانی قانون سازوں کا یہ وفد کسی دوسرے شہر جانے کے لئے جب واشنگٹن ایئرپورٹ پہنچا تو حکام نے انہیں فُل باڈی اسکین کرانے کے لئے کہا۔وفد کے سربراہ عباس آفریدی کے مطابق انہوں نے اسکیننگ کرانے سے انکار کردیا اور اب بطور احتجاج وطن واپس لوٹ رہے ہیں۔

فُل باڈی اسکینرز کے ذریعے کسی بھی فرد کے جسم کے تمام حصے دیکھے جاسکتے ہیں۔ جس پر دنیا بھر سے تعلق رکھنے والے مختلف مکتبہ فکر کے افراد تنقید کرچکے ہیں۔

اس سے قبل مارچ کے آغاز میں بھی دو پاکستانی خواتین نے لندن کے مانچسٹر ایئرپورٹ پر فُل باڈی اسکین کرانے سے انکار کردیا تھا جس کے باعث انہیں پاکستان سفر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ یہ پہلی مسافر خواتین تھیں جنہوں نے فُل باڈی اسکین کرانے سے انکار کیا۔

رپورٹ : افسر اعوان

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM