1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلپائن کے صدر کی اوباما کو گالی، ملاقات منسوخ

امریکی صدر باراک اوباما نے فلپائن کے اپنے ہم منصب روڈریگو ڈوٹیرٹے کے ایک تلخ بیان کے بعد ان سے اپنی ملاقات منسوخ کر دی ہے۔ دوسری جانب ڈوٹیرٹے نے اوباما کے لیے استعمال کیے جانے والے الفاظ پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

فلپائن کے صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے نے آج منگل کے روز تسلیم کیا کہ اوباما کے حوالے سے ان کا بیان انتہائی سخت تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس وجہ سے تشویش اور پریشانی پیدا ہوئی ہے: ’’اس بات پر افسوس ہے کہ ایسا لگ رہا ہے کہ جیسے اوباما کو ذاتی طور پر نشانہ بنایا گیا ہو‘‘۔

ان دونوں صدور کی ملاقات آج لاؤس میں جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم کے سربراہی اجلاس کے موقع پر ہونا تھی۔ تاہم پیر کے روز روانگی سے قبل ڈوٹیرٹے نے ایک بیان میں اوباما کو ’’فاحشہ کی اولاد‘‘ کہا۔ تاہم انہوں نے اپنے اس بیان پر معافی نہیں مانگی۔

China G20 Gipfel in Hangzhou - Barack Obama

منشیات کے جنگ کے بھی کچھ بین الاقوامی ضابطے ہیں۔، اوباما

امریکی صدر باراک اوباما نے کہا تھا کہ وہ اس سربراہی اجلاس کے دوران ڈوٹیرٹے کی انسداد منشیات مہم پر ضرور بات کریں گے، جس کے طریقہ کار پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں۔ اس پر ڈوٹیرٹے نے کہا کہ اوباما کون ہوتے ہیں ان سے سوال پوچھنے والے؟ ’’اگر اس موضوع پر بات کی گئی تو فاحشہ کے بچے میں اجلاس کے دوران ہی تمہارے بخبے ادھیڑ دوں گا ۔‘‘

رپورٹس کے مطابق انسداد منشیات کی اس مہم کے دوران متعدد مبینہ مجرموں کو عدالتی کارروائی کے بغیر قتل کیا گیا ہے۔ تیس جون کو اقتدار میں آنے کے بعد ڈوٹیرٹے درجنوں منشیات فروشوں کو تختہ دار پر بھی لٹکا چکے ہیں، جس پر ان کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ امریکا اور فلپائن حلیف ممالک رہے ہیں تاہم ڈوٹیرٹے کے صدر بننے کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات کشیدہ ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر نے اس بیان کے بعد کہا کہ وہ ڈوٹیرٹے سے ملنے کے بارے میں ایک مرتبہ پھر سوچیں گے، ’’وہ ایک رنگین مزاج انسان ہیں اور میرے ساتھی اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ آیا یہ ملاقات فائدہ مند بھی ثابت ہو سکتی ہے۔‘‘ اوباما نے مزید کہا کہ انہیں اندازہ ہے کہ منشیات کی تجارت کی وجہ سے فلپائن کی حکومت پر بہت بوجھ ہے، ’’تاہم ہمیں اس بات کا بھی خیال رکھنا چاہیے کہ اس جنگ کے بھی کچھ بین الاقوامی ضابطے ہیں۔‘‘