1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلپائن کی ایک جیل سے شدت پسندوں کا فرار

فلپائن کے ایک جنوبی صوبے کی جیل میں قید اکتیس شدت پسند فرار ہو گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والوں میں سر قلم کرنے کی وارداتوں میں ملوث مسلمان گوریلے بھی شامل ہیں۔

default

شدت پسندوں نے اپنے ساتھیوں کو چھڑوانے کے لئے اتوار کی صبح باسیلان جزیرے کی جیل پر حملہ کیا۔ باسیلان کے نائب گورنر الرشید ساکالاہل نے خبررساں ادارے 'اے پی' سے گفتگو میں کہا کہ مسلح افراد اسی گوریلا فورس کے ارکان کو چھڑوانا چاہتے تھے۔ تاہم اس دوران بعض دیگر قیدی بھی فرار ہو گئے۔

انہوں نے بتایا کہ حملہ آوروں نے جیل کی بیرونی دیوار توڑنے کے لئے بھاری ہتھوڑے استعمال کئے جبکہ کٹر کی مدد سے اندرونی دروازے کاٹ ڈالے۔ پولیس کے سربراہ ابوبکر تلاوی کا کہنا ہے کہ اس دوران فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا، جس میں ایک پہرے دار ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا۔

علاقائی فوجی کمانڈر میجر جنرل بینجمن ڈولورفینو کہتے ہیں کہ فرار ہونے والے والوں میں 'مورو اسلامک لبریشن فرنٹ' کے مشتبہ باغی اور ابوسیاف گروپ کے شدت پسند بھی شامل ہیں۔ ان میں سے دو افراد پر 2007ء میں درجنوں فوجیوں کے سرقلم کرنے کا الزام ہے۔ انہوں نے کہا کہ فرار ہونے والوں کی گرفتاری کے لئے ملٹری یونٹس تشکیل

Massaker Philippinen Ismael Mangudadatu

فلپائن میں اس جگہ گزشتہ دنوں متعدد افراد کو انتخابی تشدد کے دوران ہلاک کر دیا گیا

دے دیے گئے ہیں جبکہ جیل کی سیکیورٹی میں نرمی کا تعین کرنے کے لئے انکوائری شروع کر دی گئی ہے۔

باسیلان جزیرے کی جیل پر حملہ ایسے وقت ہوا، جب فلپائن کے وزیردفاع نوربیرٹو گونزالیس ایک دورے پر وہاں پہنچنے والے تھے۔ یہ علاقہ دارالحکومت منیلا سے پانچ سو پچاس میل کے فاصلے پر ہے، جہاں انتہاپسندوں کی کارروائیوں کے باعث ہنگامی حالت کے نفاذ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب فلپائن کے صوبے آگوسن ڈیل سُر میں اغوا کاروں نے سینتالیس افراد کو تین روز بعد رہا کر دیا ہے۔ انہوں نے مغویوں کی رہائی پر رضامندی مذاکرات کے بعد ظاہر کی۔ حکام نے انہیں گرفتار نہ کرنے کا یقین دلایا۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: افسر اعوان

DW.COM