1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلپائن: يرغمال بنائے گئے اکتيس افراد رہا مگر خطرہ ٹلا نہيں

فلپائن ميں اسلام پسند جنگجوؤں نے ايک اسکول ميں اکتيس افراد کو يرغمال بنا ليا تھا۔ تاہم فوجی دستوں کے ساتھ تقريباً ايک دن تک جاری رہنے والے مسلح تصادم کے بعد جنگجو تمام يرغماليوں کو چھوڑ کر جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے۔

فلپائن کی فوج نے بدھ اکيس جون کو جاری کردہ اپنے ايک بيان ميں تصديق کی ہے کہ ايک پرائمری اسکول ميں اکتيس افراد کو يرغمال بنانے والے اسلام پسند جنگجو چوبيس گھنٹوں تک جاری رہنے والے مسلح تصادم کے بعد فرار ہو گئے ہيں۔ يرغمال بنائے جانے والے تمام افراد، جن ميں بارہ بچے بھی شامل تھے، محفوظ ہيں۔ اس واقعے ميں کسی بھی شخص کے ہلاک ہونے کی اطلاع نہيں ہے۔

يہ واقعہ فلپائن کے شہر مراوی سے تقريباً 190 کلوميٹر جنوب کی طرف واقع چھوٹے شہر پگکاوائن ميں بدھ کو پيش آيا۔ مراوی ميں ملکی فوج اور دہشت گرد تنظيم اسلامک اسٹيٹ کے حاميوں کے مابين قريب پانچ ہفتوں سے لڑائی جاری ہے۔ فلپائن کی پوليس نے ابتداء ميں بتايا تھا کہ پگکاوائن ميں ’بنگسامورو اسلامک فريڈم فائٹرز‘ (BIFF) کے تقريباً تين سو جنگجوؤں نے بدھ کی صبح ايک پرائمری اسکول پر دھاوا بول ديا تھا تاہم بعد ميں بتايا گيا کہ اس کارروائی ميں صرف پچاس جنگجو ملوث تھے۔  

فوج کے بريگيڈيئر جنرل ريسٹيٹوٹو پاڈيلا نے بتايا، ’’دشمن جلد بازی میں فرار ہو گئے۔ اس دوران وہ اکتيس يرغماليوں کو بالکل محفوظ حالت ميں چھوڑ گئے۔‘‘ ان کے بقول داعش کے حاميوں اور فوجیوں  کے مابين فائرنگ کے تبادلے کے نتيجے ميں جوبيس ديگر افراد پھنس گئے تھے، وہ بھی اب آزاد ہیں۔ پاڈيلا کے بقول اس وقت تو اگرچہ خطرہ ٹل گيا ہے ليکن حکام چوکنا ہيں کيونکہ جنگجو مزيد حملے کر سکتے ہيں۔

Philippinen Islamistische Rebellengruppe BIFF (Getty Images/AFP/T. Aljibe)

’بنگسامورو اسلامک فريڈم فائٹرز‘ (BIFF) کے ارکان

دريں اثناء ’بنگسامورو اسلامک فريڈم فائٹرز‘ کے ترجمان ابو مصری ماما نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتايا کہ جنگجوؤں نے شہريوں کو ايک محفوظ مقام پر منتقل کر ديا تھا تاکہ وہ فائرنگ کے بيچ نہ آئيں۔ ان کے بقول ان کی تنظيم کے ارکان شہريوں کو يرغمال نہيں بنانا چاہتے تھے۔

پگکاوائن اور مراوی دونوں ہی فلپائن کی بڑے جنوبی جزيرے منڈناؤ پر واقع ہيں۔ BIFF کے چند ارکان نے دو ديگر ايسی طاقتور اسلام پسند تنظيموں سے ہاتھ ملا ليے ہيں، جو ايک ماہ قبل مراوی پر قابض تھيں اور پچھلے پانچ ہفتوں سے ملکی فوج کے خلاف برسرپيکار ہيں۔