1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فلپائن میں نوکری کے دوران اونچی ہیل پہننے کی شرط ختم

فلپائنی حکومت نے کاروباری کمپنیوں کو حکم دیا ہے کہ ملازمت دیتے وقت اونچی ہیل پہننے کی شرط فوری طور ختم کر دی جائے۔ اس حکومتی فیصلے کی ملکی لیبر یونینوں نے پرزور انداز میں پذیرائی کی ہے۔

یہ تاثر عام ہے کہ کئی کثیرالقومی بڑی کاروباری کمپنیوں میں خواتین کو ملازمت دیتے وقت یہ شرط رکھی جاتی ہے کہ نوکری کے اوقات میں اونچی ہیل پہننا لازم ہو گا۔ اس کی دیکھا دیکھی کئی ملکوں میں بعض کمپنیوں نے اس شرط کو ایک اصول کے طور پر اپنا رکھا ہے۔ ان ممالک میں فلپائن بھی شامل ہے۔

اب اس ملک کے لیبر ڈیپارٹمنٹ نے تمام ملکی اور کثیرالقومی اداروں کو ایک ایگزیکٹو آرڈر روانہ کیا ہے، جس میں خواتین کو نوکری دیتے وقت اونچی ہیل کی شرط رکھنے کو غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔

اونچی ایڑی : فیشن ضروری یا صحت

اونچی ایڑی کے جوتے: پرکشش بنائیں اور بیمار بھی

فلپائن کی وزارت محنت نے یہ فیصلہ چار خواتین کی شکایت پر دیا ہے اور اس فیصلے کے تحت ملازمت دینے والی کمپنیاں خواتین کو اونچی ہیل پہننے پر مجبور نہیں کریں گی۔ وزارت نے ہیل کی کم از کم اونچائی ایک انچ رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ اس سے بلند ہیل پہننا ملازمت کرنے والی خاتون کی مرضی پر منحصر ہو گا۔

فلپائن کی ٹریڈ یونینوں کی کانگریس کے سینیئر اہلکار اور ترجمان ایلن تانخواسے نے اس فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے احسن اقدام قرار دیا ہے۔ لیبر یونین کے اہلکار کے مطابق اس فیصلے سے خواتین کے خلاف پائے جانے والے جنسی تعصب کا خاتمہ بھی ہو گا۔

Frau mit roten Schuhen (ullstein bild - Imagebroker.net)

دنیا بھر میں مخحتلف ادارے ڈیوٹی کرنے والی خواتین کو اونچی ہیل پہننے کی ترغیب دیتے ہیں

ایلن تانخواسے کا کہنا ہے کہ فلپائن کے تقریباً سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں خواتین کو نوکریاں دینے والے ادارے اور کمپنیاں خواتین کو اونچی ہیل پہننے کی ترغیب کے ساتھ نوکری سے نکالنے کی دھمکیاں بھی دیتے تھے اور یہ اُن کے حقوق کے منافی اقدام تھا۔ یہ امر اہم ہے کہ فلپائن میں خریداری کے مراکز، ریستورانوں، ہوائی کمپنیوں کے دفاتر اور ہوٹلوں میں خاص طور پر خواتین کو نوکری کے دوران اونچی ہیل پہننا لازم قرار دیا جاتا ہے۔

ٹریڈ یونین کانگریس کے مطابق فلپائن کے مختلف شہروں میں خریداری کے مراکز اور شاپنگ مالز میں دس لاکھ خواتین سیلز اسسٹنٹ کے طور پر کام کرتی ہیں اور اس حکومتی فیصلے سے یہ تمام خواتین مستفید ہو سکیں گی۔ اس فیصلے میں حکومت نے کمپنیوں اور اداروں کو پابند کیا ہے کہ وہ خواتین کو آرام دہ لباس پہن کر نوکری کرنے کے مواقع بھی فراہم کریں گی۔

DW.COM