1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلپائن میں ’مسلم شناختی کارڈ‘ کے اجراء کی تجویز پر شدید غصہ

اکثریتی طور پر کیتھولک مسیحی آبادی والے ملک فلپائن کے مسلم اکثریتی شہر مراوی میں مسلمانوں کو خصوصی شناختی کارڈ جاری کرنے کی متنازعہ تجویز پر ہنگامہ کھڑا ہو گیا ہے اور شدید غصے کا اظہار بھی کیا جا رہا ہے۔

منیلا سے ڈوئچے ویلے کی نامہ نگار آنا سانتوس نے اپنے ایک تفصیلی مراسلے میں لکھا ہے کہ اس تنازعے کا پس منظر یہ ہے کہ مراوی فلپائن کا ایک ایسا شہر ہے جہاں ملکی سطح پر اقلیتی مسلم آبادی مقامی سطح پر اکثریت میں ہے۔ لیکن مئی کے مہینے سے اسی شہر میں مسلح فوجی دستوں اور مسلم عسکریت پسندوں کے مابین شدید جھڑپیں بھی جاری ہیں، جن میں اب تک سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

ملکی فوج اور منیلا حکومت کے مطابق مراوی میں دراصل انسداد دہشت گردی کے لیے ایک وسیع آپریشن جاری ہے اور اس آپریشن کے آغاز سے قبل اس شہر پر شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے کئی سو ایسے مسلح جہادیوں نے جزوی طور پر قبضہ بھی کر لیا تھا، جو داعش کے جھنڈے بھی اٹھائے ہوئے تھے۔

فلپائن: يرغمال بنائے گئے اکتيس افراد رہا مگر خطرہ ٹلا نہيں

فلپائن: جرمن مغوی کا سر قلم کر دیا گیا، سائٹ

مسلم شدت پسندوں کے اس شہر پر جزوی قبضے کے بعد ملکی حکومت نے اس شہر میں ایک وسیع تر زمینی اور فضائی آپریشن شروع کر دیا تھا۔ اب تک یہ آپریشن اس لیے مکمل نہیں ہو سکا کہ بہت سے عسکریت پسند ابھی تک شہر کے مختلف حصوں میں مورچہ بند ہیں اور فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی فوجی کارروائیاں بھی ان شدت پسندوں کو وہاں سے پسپائی پر تاحال مجبور نہیں کر سکیں۔

مراوی کا شہر ملکی دارالحکومت منیلا سے 800 کلومیٹر یا قریب 500 میل دور ہے اور خونریز جھڑپوں کے موجودہ سلسلے سے قبل وہاں کی مجموعی آبادی قریب دو لاکھ بنتی تھی۔ اب تک لیکن ملکی فوج کے مطابق ان شہریوں کی اکثریت اپنی جانیں بچانے کے لیے اس شہر سے رخصت ہو چکی ہے۔

فوج کے مطابق اس وقت مراوی میں موجود عام شہریوں کی تعداد صرف تقریباﹰ 500 ہے، جو ان علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں، جہاں مسلم شدت پسند مورچہ بند ہیں۔ منیلا حکومت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مراوی آپریشن میں اب تک 300 سے زائد عسکریت پسند اور 67 فوجی بھی مارے جا چکے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ خدشہ بھی ہے کہ یہی لڑائی اب تک درجنوں عام شہریوں کی جان بھی لے چکی ہے۔

ابو سیاف کی جرمن یرغمالی کا سر قلم کرنے کی دھمکی

نیا روسی چینی عالمی نظام، فلپائن کے صدر ڈوٹیرٹے کا تازہ موقف

اس خونریزی کے ساتھ ساتھ فلپائن میں سیاسی اور سماجی سطح پر غم و غصے کا باعث بننے والے ایک نئے تنازعے کا آغاز اس وقت ہوا، جب حکام نے یہ متنازعہ تجویز پیش کر دی کہ انسداد دہشت گردی کے اقدامات کے تحت مراوی کے مسلمانوں کو علیحدہ سے خصوصی شناختی کارڈز جاری کیے جائیں۔

Philippinen Luftangriff auf Islamisten

فلپائن کی فوج کا مراوی میں عسکریت پسندوں کے خلاف زمینی کے ساتھ ساتھ فضائی آپریشن بھی جاری ہے

اس بارے میں مراوی کے رہنے والے ایک مسلم شہری حمزہ لقمان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’اس تجویز کا وقت بالکل مناسب نہیں ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ملک کے جنوبی شہر مراوی پر دہشت گرد تنظیم داعش سے منسلک عسکریت پسند گروپ ’ماؤرے‘ کے جہادیوں کی چڑھائی کے بعد سے پورے فلپائن میں اسلام سے خوف یا ’اسلاموفوبیا‘ کی فضا میں واضح اضافہ ہوا ہے۔

میں بھی ہٹلر کی طرح ہلاک کروں گا، فلپائنی صدر ڈوتیرتے

مشرقِ وسطیٰ میں تباہی کا ذمہ دار امریکا ہے، فلپائنی صدر

مراوی کے اس مسلمان شہری اور چند دیگر مقامی رہائشی مسلمانوں نے ڈی ڈبلیو کو یہ بھی بتایا کہ ان کے وہ دوست اور رشتے دار جو لڑائی سے بچنے کے لیے اس شہر سے رخصت ہو چکے ہیں، انہیں ابھی تک ملک کے دیگر حصوں میں رہنے کے لیے کوئی جگہ اس لیے کرائے پر نہیں ملی سکی کہ ان کا تعلق فلپائن کی مسلم اقلیت سے ہے۔

فلپائن کے مسلمانوں کا کہنا ہے کہ مسلم اقلیت کے لیے خصوصی شناختی کارڈز کے اجراء کی تجویر نہ صرف انتظامی سطح پر کھلا امتیازی رویہ ہے بلکہ حکام نے ‘مسلم شناختی کارڈز‘ کی تجویز دے کر اس بات کو ایک بار پھر ثابت کر دیا ہے کہ اس ملک میں مسلم اقلیتی شہریوں کو اب کسی بھی جگہ پر خوش آمدید نہیں کہا جاتا۔

کئی سکیورٹی ماہرین کے خیال میں فلپائن میں انسداد دہشت گردی کی کارروائیوں کی کامیابی کے لیے مسلم  اقلیت کو خصوصی شناختی کارڈز جاری کرنے جیسی تجاویز کے بجائے زیادہ توجہ اس بات پر دی جانا چاہیے کہ ملکی انٹیلیجنس ادارے آپس میں زیادہ مربوط انداز میں کام کریں اور حکومت اعتدال پسند مسلم اقلیتی آبادی کے نمائندوں کو بھی ساتھ لے کر چلے۔

DW.COM