فلپائن میں سمندری طوفان کے نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافہ | حالات حاضرہ | DW | 23.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلپائن میں سمندری طوفان کے نتیجے میں ہلاکتوں میں اضافہ

فلپائن میں سمندری طوفان ٹیمبن کی وجہ سے شدید بارشوں اور مٹے کے تودے گرنے کے باعث کم از کم 133 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ پولیس کے مطابق ہفتے کے روز متعدد افراد کی لاشیں طغیانی کے شکار ایک دریا سے نکالی گئیں۔

اس سمندری طوفان سے فلپائن کا دوسرا سب سے بڑا جزیرہ منڈاناؤ متاثر ہوا ہے، جسے جمعے کے روز سے سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا۔

شمالی فلپائن طوفان کوپوّ کی زد میں

سمندری طوفان فلپائن سے ٹکرا گیا، ہزاروں افراد بے گھر

پوپ کو ٹاکلوبان میں انتہائی شدید موسم کا سامنا

فلپائن کو سالانہ بنیادوں پر اوسطاﹰ قریب 20 بڑے سمندری طوفانوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے، تاہم 20 ملین آبادی کے جزیرے منڈاناؤ کے لیے یہ ایک غیرمعمولی واقعہ ہے۔

پولیس، فوج اور رضاکاروں کی ایک بڑی تعداد ہفتے کے روز سیلاب سے متاثرہ گاؤں دالاما میں تباہ ہونے والے مختلف مکانات کے ملبے کے نتچے دب جانے والے افراد کو بچانے کی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ مقامی  پولیس افسر گیری پارامی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو ٹیلی فون پر بتایا، ’’دریا طغیانی کا شکار ہے اور اس دالاما کے زیادہ زیادہ تر مکانات تباہ ہو چکے ہیں۔ یوں سمجھیے کہ اب یہ گاؤں یہاں باقی ہی نہیں رہا۔‘‘

ادھر ہفتے کے روز امدادی کارکنوں نے دالاما کے قریب سالوگ دریا کے کنارے واقع قصبے ساپاد  میں 36 افراد کی لاشیں سیلابی پانی سے برآمد کیں۔

مقامی حکام کا کہنا ہے کہ سیلابوں سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ لاناؤ دیل نورتے ہیں، جہاں ساپاد، ساوادور اور توبود کے علاقوں میں تباہی مچی گئی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:29
Now live
01:29 منٹ

بھارت میں سمندری طوفان ’وردھا‘

مقامی پولیس کے مطابق مٹی کے تودے اور چٹانی پتھر گرنے کے واقعات کے بعد سے قریب 81 افراد لاپتا ہے، جن کی تلاش کے لیے امدادی کارکنان سرگرم ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ لینڈسلائیڈنگ کی وجہ سے متعدد متاثرہ علاقوں تک رسائی میں شدید مشکلات کا سامنا ہے اور کئی علاقوں میں امدادی سامنا کی ترسیل ایک بڑا چیلینج ہے۔

سمندری طوفان ٹیمبن سے ایک ہفتے قبل کائی تاک نامی سمندری طوفان وسطیٰ فلپائن میں 54 افراد کی ہلاکت کا باعث بنا تھا، جب کہ وہاں اب بھی دیگر 24 افراد لاپتا ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic