1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فلپائن: اسکولوں میں کنڈوم تقسیم کرنے کا منصوبہ مسترد

فلپائن کی وزارت تعلیم نے ایچ آئی وی کے پھیلاؤ کی روک تھام کی خاطر ملک بھر کے اسکولوں میں کنڈوم تقسیم کرنے کا منصوبہ مسترد کر دیا ہے۔ ایشیا میں ایچ آئی وی سب سے تیزی کے ساتھ اسی ملک کے نوجوانوں میں پھیل رہا ہے۔

فلپائن کی وزارت صحت نے دسمبر میں یہ منصوبہ پیش کیا تھا کہ ملک میں ایچ آئی وی کے خلاف موثر اقدامات کرتے ہوئے اسکولوں میں کنڈوم تقسیم کیے جائیں گے۔ اس اعلان کے بعد نہ صرف چند قانون سازوں بلکہ اس اکثریتی کیتھولک ملک کے مذہبی رہنماؤں نے بھی اس منصوبے پر کڑی تنقید کی تھی۔

فلپائن کا شمار ایشیا کے ان ملکوں میں ہوتا ہے، جہاں ایچ آئی وی  نامی مہلک وائرس سب سے زیادہ تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اس حوالے سے کام کرنے والے متعدد فلاحی گروپوں کا کہنا ہے کہ حکومت مناسب اقدامات نہیں کر رہی اور اس کی منصوبہ بندی ناکامی سے دوچار ہو چکی ہے۔ ان گروپوں کا کہنا ہے کہ حکومت کو مانع حمل کے طریقوں کے ساتھ ساتھ جنسی تعلیم کے حوالے سے اقدامات بھی اٹھانے چاہئیں۔

اب وزارت تعلیم نے کہا ہے کہ اس طرح پرائمری اور ہائی اسکولوں میں کنڈوم تقسیم کرنے کی اجازت قطعی نہیں دی جا سکتی اور یہ کہ اس حوالے سے بنائے گئے نئے قوانین صرف ’جنسی تعلیم‘ فراہم کرنے کی اجازت دیتے ہیں۔

'ایڈز کو روکنے کے لیے ‘نئے طریقوں کی ضرورت ہے

وزارت تعلیم کے اسسٹنٹ سیکرٹری تونیستو اومالی کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم نے یہ فیصلہ والدین کے احساسات کو جاننے اور ان کی طرف سے آنے والے رد عمل کے بعد کیا ہے۔ بچوں کے والدین اس منصوبہ سے متفق نہیں ہیں۔‘‘

اومالی کا مزید کہنا تھا، ’’والدین کے مطابق اس طرح ان کے بچوں کو یہ اشارہ ملے گا کہ شادی سے پہلے جنسی تعلق قائم کرنا بالکل درست ہے اور جب تک آپ محفوظ ہیں آپ ایسا کر سکتے ہیں۔‘‘

فلپائن میں مانع حمل کا مسئلہ شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کیوں کہ ملک کا طاقتور چرچ حکومت کی متعدد پالیسیوں سے متفق نہیں ہے۔ گزشتہ ماہ ملکی صدر روڈریگو ڈوٹیرٹے نے چرچ کو چیلنج کرتے ہوئے حکومتی ایجنسیوں کا حکم دیا تھا کہ ملک کی چھ ملین خواتین کو مانع حمل  کی ادویات مفت فراہم کی جائیں تاکہ فیملی پلاننگ کے پروگرام کو کامیاب بنایا جا سکے۔

فلپائن کی وزارت صحت خاص طور پر پندرہ سے چوبیس برس کے لڑکوں اور لڑکیوں پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے کیوں کہ اس عمر کے افراد سب سے زیادہ اس وائرس سے متاثر ہو رہے ہیں۔

DW.COM