1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

فلپائنی باغیوں کے خلاف جنگ، فیس بک کے ذریعے

فلپائن میں دائیں بازو کے باغیوں کو فیس بک اور انٹر نیٹ کے ذریعے شکست دی جا رہی ہے۔ باغیوں میں شامل یا ان کے حامی نوجوان حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی بجائے انٹرنیٹ کی طرف راغب ہو رہے ہیں۔

default

اعلیٰ مذاکرات کار ایلکس پاڈیا نے کہا ہے کہ انٹرنیٹ کی مدد سے یونیورسٹی کے طالب علموں کو باغیوں سے دور کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق متاثرہ علاقوں میں اسکولوں میں داخلہ لینے والے بچوں کی تعداد میں بھی اضافہ ہوا ہے۔

رواں برس فلپائن کے نئے صدر Benigno Aquino نے ماؤ نواز باغیوں کے ساتھ امن مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔ فلپائن کی حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات بحال کرنے میں ناروے نے بنیادی کردار ادا کیا۔ فلپائنی حکومت اور باغیوں کے درمیان مذاکرات گزشتہ سات برسوں سے جمود کا شکار تھے۔ صدر اکینو کے مطابق باغیوں کے ساتھ امن مذاکرات جاری ہیں

Friedensgespräche Philippinen Regierung und kommunistische Rebellen in Oslo

ناروے میں مذاکرات کے دوران لی گئی ایک تصویر

اور آئندہ 18 ماہ میں ایک امن معاہدہ بھی طے پا سکتا ہے۔

اعلیٰ مذاکرات کار پاڈیا کا کہنا ہے، ’’نئی نسل میں پرانے خیالات کی کمی ہے۔ باغی نئی نسل کے ذہنوں میں پرانے خیالات کے پودے لگانے میں ناکام رہے ہیں۔‘‘

پاڈیا کا کہنا ہے کہ یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جا سکتی کہ باغیوں کے زیادہ تر لیڈروں کی عمریں 70 سال سے زائد ہو چکی ہیں۔ وہ کہتے ہیں، ’’اب وہ اسکولوں اور یونیورسٹیوں کے نوجوانوں کو بھرتی کرنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ فلپائن کی 94 ملین کی آبادی میں سے باغیوں کی حمایت تین ملین سے بھی کم افراد کرتے ہیں۔

اس بارے میں اعلیٰ مذاکراتی نمائندے پاڈیا کا مزید کہنا ہے، ’’میرے خیال میں فیس بک نے اس تبدیلی میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ نوجوان نسل اب ایسے نہیں سوچتی، جیسے 30 بر س پہلے سوچا جاتا تھا۔‘‘

ان کا کہنا ہے کہ حکومت اب بھی یہی خیال کرتی ہے کہ امن مذاکرات کے عمل کو تیز کیا جانا چاہیے تاکہ ملک میں مزید خون خرابے سے بچا جا سکے۔

باغیوں نے حکومت کے ساتھ مذاکرات کے لیے پہلے یہ شرط رکھی تھی کہ ان کی تنظیم کا نام کالعدم گروپوں کی فہرست سے خارج کر دیا جائے۔

فلپائن میں چالیس سال سے جاری ماؤ نواز باغیوں کی علیحدگی پسندی کی مسلح تحریک میں اب تک کم از کم بھی 25 ہزار افراد مارے جا چکے ہیں۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: مقبول ملک