1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

فلوجہ پر قبضے کے لیے عراقی فوج کا آپریشن شروع

عراقی وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ فلوجہ شہر کا قبضہ حاصل کرنے کا عسکری آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ اس عراقی شہر پر دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے سن 2014 میں قبضہ کیا تھا۔

آج پیر سے الانبار صوبے کے ایک اہم شہر فلوجہ پر قابض جہادیوں کو پسپا کرنے کے بڑے فوجی مشن کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ عراقی وزیراعظم نے اِس عسکری آپریشن کے شروع کیے جانے کا باضابطہ اعلان کیا ہے۔ آپریشن کے پہلے ہی دن عراقی فوج نے فلوجہ شہر کے نواح میں واقع زرعی علاقوں میں پھیلے ہوئے عسکریت پسندوں کو پیچھے دھکیلنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔

اِس وقت فلوجہ کے مشرقی نواحی قصبے الکرمہ میں لڑائی کا سلسلہ شروع ہے۔ الکرمہ کو اسلامک اسٹیٹ کی سپلائی کا مرکز قرار دیا جاتا ہے۔ جہادی اِس وقت اِس قصبے کے مرکز میں مورچہ زن ہو کر حکومتی پیش قدمی کا مقابلہ کرنے کی کوشش میں ہیں۔

عراق کے نیم فوجی دستوں کی قیادت کرنے والے کرنل محمود المرضی کا کہنا ہے کہ آپریشن شروع کرنے کے بعد اُن کے فوجی دستوں نے محتاط انداز میں پیش قدمی کرتے ہوئے کم از کم تین زرعی علاقوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ یہ تینوں علاقے الکرمہ قصبے کے نواح میں ہیں۔ کرنل المرضی نے یہ بھی بتایا کہ توپ خانے اور ٹینکوں سے شیلنگ کے ساتھ ساتھ فضائی حملوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

یہ امر اہم ہے کہ گزشتہ برس اگست سے عراقی فوج فلوجہ پر حملے کی پلاننگ کے سلسلے میں اِس شہر کا محاصرہ کیے ہوئے ہے۔ گزشتہ کئی ماہ سے عراقی فوج نے شہر کے لیے خوراک اور ادویات کی سپلاسی کو کنٹرول کر رکھا ہے۔

Irak Offensive zur Rückeroberung der Stadt Falludscha

عراقی فوجی فلوجہ کی جانب بڑھتے ہوئے

عراقی فوج کے ہم راہ شیعہ ملیشیا کے مسلح دستوں کے علاوہ نیم فوجی دستے اوہر پولیس کے اہلکار بھی شامل ہیں۔ زمینی فوجیوں کے ساتھ ٹینک، توپیں اور بکتر بند گاڑیاں بھی ہیں۔ بارودی سرنگوں کو صاف کرنے والی مشینیں بھی فوج کے دستے اپنے ساتھ لے کر آگے بڑھ رہے ہیں۔ امریکی عسکری اتحاد کے جنگی طیارے بھی جہادیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اس عسکری فوجی آپریشن کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عبدالوہاب السعدی ہیں۔

جنرل عبدالوہاب السعدی نے فلوجہ کی بازیابی کے لیے کوئی ٹائم فریم دینے سے معذوری ظاہر کی ہے۔ تاہم ان کے مطابق اِس آپریشن کے ابتدائی مرحلے میں فلوجہ کے اندر اور باہر ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ٹھکانوں کی نشاندہی پر اُن پر کاری ضرب لگاتے ہوئے جہادیوں کو مفلوج کر دیا جائے۔

فلوجہ آپریشن کے بارے ميں ٹيلی وژن پر خطاب کرتے ہوئے وزير اعظم حيدر العبادی نے کہا کہ فلوجہ کو داعش کے قبضے سے چھڑانے کے ليے عسکری کارروائی پہلے شروع ہونی تھی تاہم حاليہ سياسی پيش رفت کے سبب ایسا ممکن نہیں ہو سکا تھا۔ اس آپريشن کے آغاز سے قبل اتوار کو عراقی جوائنٹ آپريشنز کمانڈ نے شہر کے اندر موجود قريب دس ہزار سے زائد شہريوں کو محفوظ مقام کی جانب منتقل ہونے کی ہدایت کی تھی۔ یہ بھی کہا گیا تھا کہ جو خاندان منتقل نہیں ہو سکتے وہ اپنے گھروں پر سفید پرچم لہرا کر رکھیں تا کہ حملےکے دوران اُن کے گھروں کو ہر ممکن تحفظ دیا جا سکے۔